پردیس میں تذکرہ وطن |
س کتاب ک |
|
رِجَالٌ ۙ لَّا تُلۡہِیۡہِمۡ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکۡرِ اللہِ ؎ جو کسی حال میں اللہ سے غافل نہیں ہوتے، نفس کی حرام خواہشات کا خون پی لیتے ہیں وہ ہیں اللہ کے راستہ کے شیر، وہ ہیں اللہ کے راستہ کے مرد۔ دیکھو شیر ہرن کا خون پیتا ہے وہ اگر دھاڑ ماردے تو حضرتِ انسان چاہے پہلوان ہی کیوں نہ ہوں وُضو ٹوٹ جائے گا۔ یہ طاقت اس میں کیوں ہے؟ اس وجہ سے کہ جب شکار کرتا ہے تو ہرن کی گردن پر منہ لگاکر سارا خون پی جاتا ہے۔ اگر آپ بھی اللہ والا بننا چاہتے ہیں تو نفس کا خون پی لیجیے، نفس کی بُری خواہشوں کا خون پینے کی عادت ڈالیے ورنہ اللہ کے راستے میں آپ کا کوئی حصہ نہیں۔ اگر مرد ہو تو آجاؤ میدان میں۔ ہمت سے کام لو۔ یہ اللہ کا راستہ ہے اللہ نے خود فرمادیا کہ مجھ کو یاد کرنا مَردوں کا کام ہے اور زنانوں اور ہیجڑوں کا کام ہے کہ ذرا سی خواہش پیدا ہوئی اور اللہ کو بھول گئے، نفس اُن پر غالب ہوگیا اور جو مردانِ خدا ہیں ان کی چھوٹی بڑی کوئی تجارت غفلت میں نہیں ڈالتی یعنی اسبابِ غفلت ان کو اللہ سے غافل نہیں کرتے،یہیرجال اللہ بننے کی دعوت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو بھی اور آپ لوگوں کو بھی رجَال اللہ یعنی اللہ کے راستہ کا مرد بنادے۔ شیر کو ہرن کا خون شیر بنادیتا ہے۔ پس جو انسان اپنے نفس کی بُری خواہشوں کا خون پیے گا ولی اللہ ہوجائے گا۔ اللہ کے راستے کے مرد بنو۔ اللہ نے مرد پیدا کیا ہے، ہمت دی ہے لیکن انسان ہمت چور ہوتا ہے۔ اپنے نفس کے مزے کے لیے ہمت کو چُراتا ہے تب گناہ کرتا ہے۔ جتنے گناہ گار ہیں سب ہمت چور ہیں، ہمت کو استعمال نہیں کرتے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیوں فرض کیا ہے؟ کیوں کہ ہمت ملی ہوئی ہے گناہ چھوڑنے کی۔ پہلے گناہ چھوڑنے کی اللہ تعالیٰ نے ہمت دی ہے پھر تقویٰ فرض کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ کی ہمت نہ دیں اور تقویٰ فرض کردیں یہ ظلم ہے اور اللہ ظلم سے پاک ہے، جو کہتا ہے کہ میرے اندر گناہ چھوڑنے کی ہمت نہیں ہے جُھوٹا ہے۔ وہ اللہ کے احکام کی تعمیل میں بدمعاشی کرتا ہے، جان چُراتا ہے۔ اگر انسان پوری ہمت استعمال کرلے تو مجال نہیں ہے کہ کوئی گناہ گار سے گناہ گار ------------------------------