پردیس میں تذکرہ وطن |
س کتاب ک |
|
کہتا ہو کہ گناہ میری پرانی عادت ہے، مجھ سے تو گناہ نہیں چھوٹتے، عشقِ مجازی تو میری زندگی ہے، اس کے بغیر تو میں جی نہیں سکتا، اس سے کہو کہ بیچ سمندر میں ایک لڑکی ہے، وہ سمندری پری ہے اور اس کو دکھا بھی دیا جائے کہ وہ دیکھو وہ کھڑی ہے۔ ا سے کہو کہ تم بڑے عشق باز ہو تو سمندر میں کود پڑو تو اس وقت ساری عشق بازی ناک کے راستے سے نکل جائے گی۔ اس کو اگر کوئی بیچ سمندر میں پھینک دے تو ایک ہی غوطہ میں کہے گا کہ میں عشق بازی سے توبہ کرتا ہوں اور اب کبھی گناہ کے قریب بھی نہ جاؤں گا۔ لیکن یہ علاج غیر شریفوں کا ہے۔ شریفوں کا علاج دوسرا ہے وہ ہے اللہ کا خوف، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا استحضار ہے کہ اللہ محسنِ اعظم ہے، ہمارا پیدا کرنے والا، ہمارا پالنے والا ہے، ہمیں بینائی دینے والا، اعضاء میں طاقت دینے والا، بلاؤں اور مصیبتوں سے بچانے والا، ایمان دینے والا، اللہ والوں کا ساتھ عطا فرمانے والا ایسے محسن مالک کو ناراض کرنا شرافت کے خلاف ہے، غیر شریفانہ حرکت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں دو علاج بیان فرمائے:ایک شریفوں کا اور ایک غیر شریفوں کا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: یٰۤاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا تَّقُواللہَ وَلْتَنْظُرْ نفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور آدمی سوچ لے کہ کل کے لیے اس نے کیا عمل بھیجا ہے۔ شریف طبیعت والا اسی مراقبہ سے شرمندہ ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جو بھیجا ہے کل کو ان اعمال کے ساتھ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا منہ لے کر کھڑا ہوں گا جب وہ پوچھے گا کہ تم کیا کرتے تھے، میری ناراضگی کے اعمال تم نے کیوں کیے اور غیر شریفوں کا علاج اگلی آیت میں ہے: وَاتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ اللہ سے ڈرو، اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوتوں سے باخبر ہے جیسے نالائق بیٹوں سے باپ کہتا ہے کہ نالائق ہوشیار! میں دیکھ رہا ہوں تیری حرکتوں سے باخبر ہوں۔ جب جوتے پڑیں گے تب تم کو عقل آئے گی، اسی طرح غیر شریفوں کو اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ تمہارے اعمالِ خبیثہ سے میں باخبر ہوں اور ان کا علاج فرمادیا تاکہ وہ گناہوں سے باز رہیں۔