اس کے بعد مولانا موصوف نے علامہ ابن تیمیہ(م۷۲۸ھ)،حافظ ابن حجر(م۸۵۲ھ)، علامہ ذہبی (م۷۴۸ھ)،شیخ عبد القادر جیلانی(م۵۶۱ھ) وغیرہ مختلف حضرات علماء کے اقوال نقل کرکے امام صاحب کے دفاع میں مکمل تجزیہ کیا ہے، حافظ ذہبی کے اقوال کو نقل کرکے اس پر جو تجزیہ کیا ہے اس کو ملاحظہ فرمائیں، لکھتے ہیں:
اسی طرح حافظ ذہبی اپنی دوسری کتاب تذکرۃ الحفاظ میں آپ کے ترجمہ کے عنوان کو معزز لقب امام اعظم سے مزین کرکے آپ کا جامع اخلاق حسنہ ہونا ان ا لفاظ میں ارقام فرماتے ہیں کان إماما ورعا عالما عاملا متعبدا کبیر الشان لا یقبل جوائز السلطان بل یتجر ویکتب۔(۱)
سبحان اللہ کیسے مختصر الفاظ میں کس خوبی سے ساری حیات طیبہ کا نقشہ سامنے رکھ دیا اور آپ کی زندگی کے ہر علمی ا ور عملی شعبہ اور قبولیت عامہ اور غنائے قلبی اور حکام وسلاطین سے بے تعلقی وغیرہ فضائل میں سے کسی بھی غیر ضروری امر کو چھوڑ کر نہیں رکھا۔(۲)
آگے چل کر ایک محاکمہ کا عنوان قائم کرتے ہیں اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:
جس امر میں بزرگان دین میں اختلاف ہو اس میں ہم جیسے ناقصوں کا محاکمہ کرنا بری بات ہے، لیکن چوں کہ بزرگوں سے حسن تأدب کی بنا پر ہمارا فرض ہے کہ ان کے کلام کے صحیح محمل بیان کرکے ان سے الزام واعتراض کو دور کریں اور محض اپنی شخصی رائے سے نہیں؛بلکہ بزرگوں ہی کے ا قوال سے جو قرآن وحدیث سے مستنبط ہیں۔ (۳)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) ذہبی، شمس الدین،تذکرۃ الحفاظ۱؍۱۲۷، الطبعۃ الخامسۃ من الکتاب، دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۹۹۸ء
(۲) تاریخ اہل حدیث ص:۸۰ (۳) تاریخ اہل حدیث ص: ۸۸