پر سکوت طاری رہتا، گویا کوئی اس مجلس میں موجود ہی نہیں ہے، پھر جب امام صاحب اپنی بات مکمل کرلیتے توان کے تلامذہ متکلم فیہ مسئلہ کو یاد کرنے میں مشغول ہوجاتے۔(۱)
فقہ تقدیری
فقہ حنفی کی غیر معمولی شہرت ومقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امام صاحب کی شوریٰ میں صرف پیش آمدہ واقعات وحادثات پر بحث نہیں ہوتی تھی؛ بلکہ غیر پیش آمدہ واقعات کے حل کی جانب بھی خصوصی توجہ دی جاتی تھی؛ تاکہ جب واقعہ پیش آئے تو اس کا حل ممکن ہو اور عمل کرنا آسان ہو، امام صاحب نے شوریٰ کے توسط سے ایسے اصول مرتب کیے کہ ہر زمانے میں پیش آمدہ مسائل کا حل بآسانی دریافت کیا جاسکے، امام صاحب کے تقدیری مسائل سے شغف کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس کو خطیبؒ نے نقل کیا ہے:
نضر بن محمد کہتے ہیں کہ ابو قتادہ کوفہ آئے اور ابوبردہ کے گھر قیام کیا، ایک دن باہر نکلے تو لوگوں کی بھیڑ ان کے گرد جمع ہوگئی، قتادہ نے قسم کھاکر کہا جو شخص بھی حلال وحرام کا مسئلہ دریافت کرے گا میں ضرور اس کا جواب دوں گا، امام ابو حنیفہ کھڑے ہوگئے اور فرمایا ابوالخطاب(ان کی کنیت ہے) آپ اس عورت کے متعلق کیا فرماتے ہیں کہ جس کا شوہر چند سال سے غائب رہا، اس نے یہ یقین کرکے کہ اس کا انتقال ہوگیا ہے دوسرا نکاح کرلیا، اس کے بعد پہلا شوہر بھی آگیا، آپ اس کے مہر کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ اور جو بھیڑ ان کو گھیرے کھڑی تھی ان سے مخاطب ہوکر فرمایا اگر اس مسئلہ کے جواب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) مناقب ابی حنیفہ للموفق ۱؍۴۰۸