ولکن قولوا تفسیر الحدیث۔
آثار واحادیث کے معانی کے لئے امام ابو حنیفہ کی ضرورت
عبد اللہ بن مبارک فرمایا کرتے تھے آثار واحادیث کو لازم سمجھو، مگر ان کے معانی کے لئے امام ابو حنیفہ کی ضرورت ہے، کیوں کہ وہ معانی کو بہتر جانتے ہیں، موفق نے آپ کا قول نقل کیا ہے کہ تمہارے اوپر حدیث پر عمل کرنا ضروری ہے اور حدیث کے سمجھنے کے لئے امام ابو حنیفہ کا قول ضروری ہے، تاکہ اس کے ذریعہ حدیث کی صحیح تاویل اور معنی معلوم ہوجائے(۱) آپ کا قول ہے جب ہمیں کسی موضوع کی کوئی حدیث نہ ملے تو ہم ابو حنیفہ کے قول کو حدیث کے قائم مقام سمجھتے ہیں، انہی کا قول ہے اگر میں ابو حنیفہ سے نہ ملتا تو علم میں مفلس رہتا۔
لولا لم ألق أبا حنیفۃ لکنت من المفالیس في العلم۔(۲)
حافظہ میں سب پر غالب تھے
آپ فرماتے ہیں امام ابو حنیفہ حافظہ، فقہ ،علم، پرہیزگاری، دیانت اور تقویٰ میں سب لوگوںپر غالب تھے، علامہ کردری نے نقل کیا ہے:
عن ابن المبارک قال غلب علی الناس بالحفظ والفقہ والعلم والصیانۃ والدیانۃ وشدۃ ا لورع۔(۳)
امام صاحب صرف ثقہ لوگوں سے صحیح حدیث لیتے تھے
امام عبد اللہ بن مبارک فرماتے ہیں: امام ابو حنیفہ علم کے بڑے حریص تھے اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) مناقب ابی حنیفہ موفق۱؍۳۰۷ (۲) مناقب ابی حنیفہ موفق۱؍۳۰۷ (۳) مناقب کردری ۱ ؍۲۲۹