اخیر میں فیض ربانی کا عنوان قائم کرکے اپنے دل کی بات کہی ہے اور بزرگوں کے ساتھ ادب واحترام کی تعلیم وتلقین فرمائی ہے، فیض ربانی کا عنوان ملاحظہ فرمائیں:
ہر چند کہ میں سخت گنہگار ہوں ؛لیکن یہ ایمان رکھتا ہوں اور اپنے صالح اساتذہ مولانا ابو عبد اللہ عبید اللہ غلام حسن صاحب مرحوم سیالکوٹی اور جناب حافظ عبد المنان صاحب مرحوم محدث وزیرآبادی کی صحبت وتلقین سے، یہ بات یقین کے رتبے تک پہونچ چکی ہے کہ بزرگان دین خصوصا حضرات ائمہ متبوعین سے حسن عقیدت نزول برکات کا ذریعہ ہے اس لئے بعض اوقات خدا تعالیٰ اپنے فضل عمیم سے کوئی فیض اس ذرے بے مقدار پر نازل کردیتا ہے اس مقام پر اس کی صورت یوں ہے کہ جب میں نے اس مسئلہ کے لئے کتب متعلقہ الماری سے نکالی اور حضرت امام صاحب کے متعلق تحقیقات شروع کی تو مختلف کتب کی ورق گردانی سے میرے دل پر غبار آگیا جس کا اثر بیرونی طور پر یہ ہوا کہ دن دوپہر کے وقت جب سورج پوری طرح روشن تھا یکایک میرے سامنے گھپ اندھیرا چھاگیا ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ۔(۱) کانظارہ ہوگیا خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈال دیا کہ یہ حضرت امام صاحب سے بد ظنی کا نتیجہ ہے اس سے استغفار کرو میں کلمات استغفار دھرانے شروع کئے وہ اندھیرے فوراً کا فور ہوگئے اور ان کے بجائے ایسا نور چمکا کہ اس نے دوپہر کی روشنی کو ماند کردیا، اس وقت سے میری حضرت امام صاحبؒ سے حسن عقیدت اور زیادہ بڑھ گئی اور میں ان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) النور:۴۰