عراق کے فقہاء محدثین میں شمار ہوتے ہیں اور ابی بکر بن عیاش کے بعد اہل کو فہ کی احادیث کے سب سے بڑے عالم مانے جاتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ احادیث میں بھی ناسخ ومنسوخ ہے، جس طرح قرآن میں ناسخ ومنسوخ ہے، امام ابو حنیفہ نے اہل کوفہ کی تمام احادیث کو جمع کرلیا تھا، پھر اس میں آپﷺ کے آخری فعل پر جس پر آپﷺ کی وفات ہوئی تھی اس میں غور فرمایا کرتے تھے، اسی وجہ سے وہ فقہ کے اس مقام تک پہونچ گئے۔
ان کا ہی قول ہے کہ بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ امام ابو حنیفہ نے حدیث کو چھوڑ کر قیاس کیا ہے، حالانکہ یہ امام صاحب پر بہتان عظیم ہے، ان کی اور ان کے شاگردوں کی کتابیں اس سے بھری ہوئی ہیں کہ انہوں نے حدیث کی بنیاد پر قیاس کو ترک کیا ہے جیسے نماز میں ضحک کی بناء پر نقض وضو کا مسئلہ، نماز میں حدث کے بعد بناء کا مسئلہ، بھول کرکھانا کھانے کی وجہ سے عدم نقض صوم کا مسئلہ وغیرہ۔ (۱)
امام ابوداؤد(۲۰۲ھ=۱۶؍ شوال ۲۷۵ھ)
امام ابو داؤد سجستانی مشہور محدث ہیں، ان کی سنن ابی داؤد مشہور اور متداول ہے، وہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ امام مالک پر رحم کرے بڑے امام تھے،اللہ تعالیٰ امام شافعی پر رحم کرے وہ بڑے امام تھے،اللہ تعالیٰ امام ابو حنیفہ پر رحم کرے وہ بڑے امام تھے۔ (۲) یہاں امام ابوداؤد نے امام صاحب کو فن حدیث کا امام تسلیم کیا ہے، جس طرح امام شافعی اور امام مالک کو انہوں نے حدیث کا امام قرار دیا ہے۔
ابن عبد البر(م۴۶۳ھ)
علامہ ابن عبد البراہل علم کے نزدیک ایک مسلم محدث، فقیہ، مؤرخ اور ناقد ہیں، انہوں نے اپنی کتاب ’’جامع بیان العلم وفضلہ‘‘ میں باب ما جاء فی ذم القول فی دین اللہ میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) مناقب ابی حنیفہ للموفق ۱؍۸۳
(۲) شمس الدین ذہبی،مناقب الامام ابی حنیفہ وصاحبیہ ص: ۴۶، لجنۃ احیاء المعارف النعمانیہ حیدرآباد