شخصوں سے جن کو حضرت امام صاحب سے حسن عقیدت نہیں ہے، کہا کرتا ہوں کہ میری اور تمہاری مثال اس آیت کی مثال ہے کہ حق تعالیٰ منکرین معارج قدسیہ آنحضرتﷺسے خطاب کرکے فرماتاہے: أَفَتُمَارُونَہُ عَلَی مَا یَرَی۔(۱) میں نے جو کچھ عالم بیداری اور ہوشیاری میں دیکھ لیا اس میں مجھ سے جھگڑا کرنا بے سود ہے، ہذا واللہ ولی الہدایۃ۔ اب میں اس مضمون کو ان کلمات پر ختم کرتا ہوں اور اپنے ناظرین سے امید رکھتا ہوں کہ وہ بزرگان دین سے خصوصا ائمہ متبوعینؒ سے حسن ظن رکھیں اور گستاخی وشوخی اور بے ادبی سے پرہیز کریں کیوں کہ اس کا نتیجہ ہر دو جہاں میں موجب خسران ونقصان ہے۔
از خدا خواہیم توفیق ادب
٭
بے ادب محروم شد از فضل رب
مولانا سیالکوٹی کا درد میں ڈوبا ہوا اور حقیقت کا انکشاف کرتا ہوا مضمون ان تمام اہل حدیث حضرات کے لئے عبرت ونصیحت ہے جن کا شیوہ ہی امام صاحب سے بد گمانی وبد زبانی کا ہے۔
مولانا سید نذیر حسین دہلوی(۱۲۲۰ھ/۱۸۰۵ء= ۱۳۲۰ھ/۱۹۰۲ء)
مولانا سید نذیر حسین دہلوی اہل حدیث کے سرخیل اور شیخ الکل فی الکل ہیں آپ اپنی علمی ودینی خدمات کے بنا پر علماء ہند میں خاص مقام رکھتے ہیں،حضرت شاہ اسحاق دہلوی کے شاگرد ہیں،ملک وبیرون ملک ان کے شاگردوں کی بہت بڑی تعداد ہے، اہل حدیث کی یہاں مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں، مولانا سید نذیر حسین صاحب امام صاحب کا تذکرہ بڑے عقیدت واحترام سے کیا کرتے تھے اور ان کی شان میں گستاخی کرنے سے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) النجم:۱۲