عرف
قیاس اور استحسان کی طرح عرف بھی امام صاحب کے نزدیک ایک دلیل ہے ، قرآن وحدیث اور اجماع صحابہ یہ اولین مصادر شریعت ہیں اور قیاس استحسان اور عرف ثانوی مصادر شریعت ہیں، ضرورت کے وقت ان سے استدلال اور استخراج کیا جاسکتا ہے، مناقب ابی حنیفہ میں موفق کا بیان ہے:
آپ معتبر قول کو لیتے ہیں، قبیح سے دور بھاگتے ہیں، لوگوں کے معاملات میں غوروفکر کرتے ہیں، جب لوگوں کے احوال اپنی طبعی رفتارسے جاری رہتے تو قیاس کرتے ہیں، مگر جب قیاس سے کسی فساد کااندیشہ ہوتا تو لوگوں کے معاملات کا فیصلہ استحسان سے کرتے،جب اس سے بھی معاملات بگڑتے نظر آتے تو مسلمانوں کے تعامل کی طرف نظر کرتے جس حدیث پر محدثین کا اجماع ہوتا اس پر عمل کرتے پھر جب تک مناسب ہوتا اس پر اپنے قیاس کی بنیاد کھڑی کرتے، پھر استحسان کا رخ کرتے قیاس اور استحسان میں جو موافق ہوتا اس کی طرف رجوع کرتے۔ (۱)
امام موفق احمد کے بیان سے معلوم ہوتا ہے جہاں نص اور قول صحابی دونوں نہ ہو تو قیاس پر عمل کرنا چاہئے جب تک کہ وہ سازگار ہو اور اگر قیاس کا نتیجہ حالات کے موافق نہ ہو تو استحسان کی طرف رجوع کیا جائے اور اگر یہ بھی درست نہ ہو تو لوگوں کے تعامل اور عرف پر عمل کرنا چاہئے، بعض مقامات پراگر قیاس کی علت واضح نہیں ہوتی توآپ لوگوں کے تعامل کو قیاس پر ترجیح دیا کرتے تھے، البتہ اگر قیاس کی علت واضح ہوتی تو قیاس کو ترجیح دیتے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) مناقب ابی حنیفہ للموفق ۱؍۷۵