ان کا ہی قول ہے امام ابو حنیفہ اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عالم، زاہد تھے، میں کوفہ کے علماء کی مجلس میں بیٹھتا ہوں میں نے ان میں سے کسی کو امام صاحب سے زیادہ متورع نہیں پایا۔(۱)
امام احمد بن حنبل(۱۶۷ھ/۷۸۰ء=۲۴۱ھ/۸۵۵ء)
ائمہ متبوعین میں آپ کا شمار ہے، فن حدیث کے بلند مقام پر فائز تھے، آپ کی جرح وتعدیل پر سب کا اتفاق تھا، امام صاحب کے متعلق فرماتے ہیں ہمارے نزدیک یہ بات ثابت نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ نے قرآن کو مخلوق کہا ہے، امام ابو حنیفہ زہدوتقویٰ اور علم میں اس جگہ ہیں کہ کوئی اس مقام کو نہیں پہونچ سکا۔(۲) امام احمد جب قید خانے میں مشقتیں برداشت کررہے تھے تو جب کبھی امام ابوحنیفہ کے احوال کا تذکرہ کرتے تو ان کے لئے دعائے رحمت فرماتے۔(۳)
یزید بن ہارون (۱۱۸ھ=۲۰۷ھ)
امام ابو حنیفہ کے شاگرد رشید، امام احمد کے شیخ، فن حدیث کے جلیل القدر امام تھے، آپ کی جلالت شان،ثقاہت اور حفظ پر اجماع تھا،یزید بن ہارون نے امام ابو حنیفہ سے حدیث پڑھی اور ایک مدت تک امام صاحب کی صحبت اختیار کی، چنانچہ علامہ ذہبی نے اپنی بعض کتب میں ان کا نام ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ نے امام ابو حنیفہ سے حدیثیں روایت کی ہیں(۴) صیمری نے تمیم بن منتصر سے روایت کی ہے کہ میں یزید بن ہارون کی خدمت میں تھا، اچانک ابو حنیفہ کا ذکر آگیا، ایک آدمی نے امام صاحب کی شان میں گستاخی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) تاریخ بغداد ۱۳؍۳۴۵، تبییض الصیحفۃ ص: ۱۷
(۲) محمد بن یوسف صالحی دمشقی، عقود الجمان ص: ۱۹۶، تحقیق ودارسۃ ملا عبد القادر افغانی، الباب العاشرفی ثناء الائمۃ علیہ وعلی فقہہ، مناقب الامام ابی حنیفہ وصاحبیہ ص :۴۳
(۳) مناقب ابی حنیفہ للذہبی ص: ۴۳، مکانۃ الامام ابی حنیفہ بین المحدثین ص:۲۰۲
(۴) ذہبی،تذکرۃ الحفاظ، الطبقۃ السادسۃ ۱؍۱۶۸