جو شخص ائمہ دین خصوصا امام ابو حنیفہ کی بے ادبی کرتا ہے اس کا خاتمہ اچھا نہیں ہوتا۔(۱)
مولانا اسماعیل سلفی
سابق امیر جمعیت اہل حدیث پاکستان مولانا اسماعیل سلفی اپنے گہرے علم باریک بینی اور توازن طبع کے لحاظ سے بہت مشہور ہیں، انہوں نے بھی امام صاحب کا تذکرہ بڑے احترام سے کیا ہے اور آپ کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے، وہ اپنی کتاب فتاویٰ سلفیہ میں لکھتے ہیں:
جس قدر یہ زمین(کوفہ) سنگلاخ تھی اسی قدر وہاں اعتقادی وعملی اصلاح کے لئے ایک آئینی شخصیت حضرت امام ابو حنیفہ کی تھی جن کی فقہی موشگافیوں نے اعتزال وتجمم کے ساتھ رفض وتشیع کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا، اللہم ارحمہ واجعل الجنۃ الفردوس مأواہ۔(۲)
مولانا داؤد غزنوی
حلقہ اہل حدیث میں ایک محترم نام مولانا داؤد غزنوی کا ہے جو اہل حدیث کے مقتدر علماء میں شمار ہوتے ہیں اور اپنے متوازن طبیعت کے بنا پر علماء اہل حدیث میں کافی مقبول ہیں، مولانا غزنوی کا طرز عمل امام صاحب کے تعلق سے کافی عقیدت مندانہ ہے ،جو لوگ امام صاحب کی شان میں بے ادبی کرتے تھے مولانا غزنوی ان سے بہت نالاں رہتے تھے اور اس کا اظہار افسوس کے ساتھ کیا کرتے تھے، مشہور مؤرخ اسحاق بھٹی مولانا داؤد غزنوی کے تذکرہ میں لکھتے ہیں:
ایک دن میں ان کی خدمت میں حاضر تھا کہ جماعت اہل حدیث کی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) تاریخ اہل حدیث مصنفہ ابراہیم سیالکوٹی ص: ۴۸۶ (۲) فتاویٰ سلفیہ ۱۴۳