امام زفر جس زمانہ میں آپ کی خدمت میں فیض حاصل کررہے تھے اسی زمانہ میں ان کی شادی ہوئی، امام زفر نے امام صاحب سے نکاح خوانی کی درخواست کی، امام صاحب نے بڑے انشراح کے ساتھ شاگردکی خواہش پوری کردی اور خطبہ نکاح میں ان کے بارے میں یہ شاندار الفاظ کہے ’’یہ زفر بن ہذیل ہیں جو اپنے حسب ونسب، شرافت اور علم کی وجہ سے مسلمانوں کے امام اور دین کے زبردست عالم ہیں‘‘ شاگرد کے بارے میں استاذ کے ان جملوں سے حاضرین بہت محظوظ ہوئے، لیکن خاندان کے بعض لوگوں نے امام زفر سے کہا تمہارے قبیلے کے اعیان واشراف یہاں موجود ہیں پھر بھی تم نے ابو حنیفہ سے نکاح پڑھوایا، اس پر امام زفر نے کہا اگر میرے والد یہاں موجود ہوتے تو بھی میںامام صاحب سے ہی نکاح پڑھواتا(۱)امام زفر کے اس جملہ سے ایک شاگرد کی ا ستاذ کے تئیں جو عقیدت ومحبت ہونی چاہئے وہ ظاہر ہے، وہ بھی اس لئے کہ امام صاحب صرف ا ستاذ ہی نہیں، مربی، محسن اور کفیل بھی تھے، یہی وجہ ہے کہ امام صاحب کے تمام تلامذہ امام صاحب کا حد درجہ احترام کیا کرتے تھے۔
کوفہ کے سیاسی حالات میں امام صاحب کا طرز عمل
امام صاحب کے حلقہ درس کی وجہ سے کوفہ میں آپ کابہت اثر قائم ہوگیا تھا، آپ ۱۲۰ھ میں مسند تدریس پر فائز ہوئے، اس زمانے میں ہشام بن عبد الملک تخت خلافت پر فائز تھا، اس نے ۱۲۵ھ میں وفات پائی، اس کے زمانے میں حکومت کا انتظام وانصرام قدرے بہتر تھا، اس کے بعد ولید بن یزید اور ابراہیم بن الولید یکے بعد دیگرے تخت نشیں ہوئے، اسی دور میں عباسی خلافت کی تحریک زور پکڑ گئی تھی انہیں دنوں میں یزید بن عمروبن ہبیرہ کوفہ کا گورنر مقرر ہوا اور اس نے ایوان سلطنت کو مذہبی ستونوں پر قائم کرنے کا ارادہ کیا، اس مقصد کے تحت اس نے علماء کو حکومتی ذمہ داریوں سے سرفراز کیا اور امام صاحب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) سیرت ائمہ اربعہ، قاضی اطہر مبارکپوری ص:۶۶