سقطی سے اخذ کیا تھااور انہوں نے معروف کرخی سے اور انہوں نے حضرت داؤد طائی سے اور انہوں نے علم شریعت اور طریقت دونوں امام اعظم ابو حنیفہ سے حاصل کیا تھا۔(۱)
حضرت شبلی اور ان کے پیر حضرت سری سقطی کی بزرگی اور طریقت کا اعلیٰ ترین درجہ سب کو معلوم ہے تو جن حضرات سے ان کو یہ درجے حاصل ہوئے خیال کیجئے وہ کیا ہوں گے، علامہ حصکفی لکھتے ہیں کہ امام صاحب علم ظاہر وباطن میں اعظم ترین تھے، بہت سے معروف اولیاء اللہ آپ کے متبع ہوئے ہیں، اگر ان حضرات اولیاء اللہ کو کسی بھی بات میں ذرا سا بھی شبہ پیش آتا تو وہ کبھی بھی ان کا اتباع نہ کرتے نہ اقتداء کرتے نہ موافقت کرتے۔
واقعہ یہ ہے کہ آپ کے اخلاص، صداقت ودیانت، عبادت وریاضت اور زہد وتقویٰ کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو تصوف وطریقت میں بلند درجہ عطا کیا اور امامت واجتہاد کے مقام پر فائز فرمایا، اس کی تائید حضرت داتا گنج صاحب کی اس تحریر سے بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے خواب میں آقا ومولیٰ ﷺ کی زیارت کی اور دیکھا کہ آپ ﷺامام اعظم ابو حنیفہ کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے تشریف لارہے ہیں، آپ لکھتے ہیں خواب سے ظاہر ہوگیا کہ امام ابوحنیفہ ان پاک لوگوں میں سے تھے جو اوصاف طبع میں فانی اور احکام شرع میں باقی ہیں، اس لئے کہ حضور آپ کو اٹھا کر لائے یعنی آپ کو چلانے والے سید عالم ہیں اگر آپ خود چل کر آتے تو باقی الصفت ہوتے، باقی الصفت لوگ منزل پابھی سکتے ہیں اور منزل سے بھٹک بھی سکتے ہیں، چوں کہ رسول اللہ نے آپ کو اٹھایا ہوا تھا اس لئے یقینا آپ کی ذاتی صفات فنا ہوچکی تھیں اور وہ آقا کریم کی صفات کے ساتھ صاحب بقا تھے۔(۲)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) حصکفی،علاء الدین،در مختار۱؍ ۱۲،مکتبہ زکریا دیوبند
(۲) کشف المحجوب عربی ص: ۳۰۵