انوار رمضان |
�ضائل ، ا |
|
”لِلصَّائِمِ عِنْدَ إِفْطَارِهِ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ“ اِفطار کے وقت روزہ دار کی دعاء قبول ہوتی ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمروکے بارے میں آتا ہے کہ وہ اِفطار کے وقت اپنے اہل وعیال کو لے کر دعاء کیا کرتے تھے۔(مسند طیالسی:2376)(شعب الایمان :3624) مشہور تابعی حضرت کعب احبارجن کو پچھلی کتابوں کا بھی خوب علم تھا،وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰکی طرف وَحی بھیج کر یہ اِرشاد فرمایا:”يَا مُوسَى إِنِّي آمُرُ حَمَلَةَ الْعَرْشِ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ أَنْ يُمْسِكُوا عَنِ الْعِبَادَةِ وَكُلَّمَا دَعَا صَائِمُو رَمَضَانَ بِدَعْوَةٍ أَنْ يَقُولُوا آمِينَ، وَإِنِّي أَوْجَبْتُ عَلَى نَفْسِي أَنْ لَا أَرُدَّ دَعْوَةَ صَائِمِي رَمَضَانَ“ اے موسیٰ ! جب رمضان داخل ہوتا ہےتو مَیں عرش کے حاملین(فرشتوں)کو حکم دیتا ہوں کہ وہ اپنی عبادت کو موقوف کردیں اور جہاں کہیں بھی رمضان کے روزے رکھنے والے کوئی دعاء مانگیں تو وہ اُن کی دعاء پر آمین کہیں ، اور مَیں نے اپنے اوپر اِس بات کو لازم کرلیاہے کہ مَیں رمضان کے روزے رکھنے والوں کی دعاء ردّ نہیں کروں گا۔(شعب الایمان :3445) حضرت سیدنا عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺاِرشاد فرماتے ہیں :”ذَاكِرُ اللَّهِ فِي رَمَضَانَ مَغْفُورٌ لَهُ، وَسَائِلُ اللَّهِ فِيهِ لَا يَخِيْبُ“ رمضان میں اللہ کا ذکر کرنے والے کی مغفرت ہوتی ہےاور اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والا محروم نہیں رہتا ۔(طبرانی اوسط:6170)(شعب الایمان :3355) لہٰذا روزہ داروں کو اِس مہینے کی قدر کرتے ہوئے خوب دعاء مانگنے کا اِہتمام کرنا چاہیئے۔