انوار رمضان |
ضائل ، ا |
|
”إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي كَبْكَبَةٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُصَلُّونَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ يَذْكُرُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ“ جب شبِ قدر ہوتی ہے تو حضرت جبریل ملائکہ کی ایک جماعت کے ساتھ اُترتے ہیں اور اُس شخص کیلئے جو کھڑے بیٹھے اللہ کا ذکر کررہا ہو،رحمت کی دعاء کرتے ہیں۔(شعب الایمان :3444) تفسیرِ خازِن میں علّامہ ابن الجوزی سے اِسی روایت میں ”وَيُسَلِّمُوْنَ“کے الفاظ بھی ذکر کیے گئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے عبادت میں مشغول لوگوں کیلئے سلامتی کی بھی دعاء کرتے ہیں ۔(تفسیر الخازن: 4/453) (6)شبِ قدر کا برکت والا ہونااور قدرو منزلت والا ہونا : سورہ الدّخان میں اِسے”لَیلَۃ مُّبَارَکَۃ “ کہا گیا ہے ،چنانچہ اِرشادِ باری ہے :﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ﴾ ہم نے اس کو (لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر)ایک برکت والی رات (یعنی شبِ قدر)میں اُتارا ہے۔(بیان القرآن ) اور سورۃ القدر میں اسے ”لیلۃ القدر“ یعنی قدر و منزلت اور عظمت و شرف کی حامل رات کہا گیا ہے ،چنانچہ اِرشادِ باری ہے:﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ بیشک ہم نے اس(قرآن)کو شبِ قدر میں نازل کیا ہے۔(آسان ترجمہ قرآن) حضرت مفتی محمد شفیع فرماتے ہیں : لیلۃ القدرکا ایک معنی ”عظمت و شرَف“ کے ہیں اور اِس رات کو ”لیلۃ القدر“ کہنے کی وجہ اِس رات کی عظمت و شرَف ہے، حضرت ابوبکر ورّاق فرماتے ہیں : اِس رات