انوار رمضان |
ضائل ، ا |
|
(2)گھر میں اگر نماز کیلئے کوئی جگہ مخصوص نہ ہو تو سب سے پہلے عورت کو نماز کیلئے جگہ خاص کرکےپھر وہاں اعتکاف کی نیت سے بیٹھناچاہیئے،اگر کوئی عورت نماز کی مقررہ جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ اِعتکاف کی نیت سے بیٹھے گی تو اِعتکاف کرنا درست نہیں ہوگا۔(البحر الرائق:2/324)(بدائع الصنائع:2/113)( ردّ المحتار:2/441) (3)عورت کیلئے اِعتکاف میں بیٹھنے کے بعد اس جگہ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہوجانا جائز نہیں،اگر ایسا کیا تو اِعتکاف قائم نہ رہے گا،اگرچہ وہ دوسری جگہ اُسی مکان کے اندر ہی کسی دوسرے کمرے میں ہو تب بھی درست نہیں ، اگر ایسا کیا تو اِعتکاف قائم نہ رہے گا۔(مسائلِ اِعتکاف،سکھروی:58) (4)عورت کیلئے مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہِ تنزیہی ہے،اِس لئے عورتوں کو اپنے گھر میں ہی نماز کیلئے مقررہ جگہ پر اعتکاف کرنا چاہیئے۔( ردّ المحتار:2/441) (5)عورت جبکہ وہ شادی شدہ ہوتواس کے اِعتکاف کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ شوہر سے اِجازت لے اِس لئے کہ شوہر کو بیوی سے اِستمتاع کا حق حاصل ہوتا ہے لہٰذا وہ اِس حق کے فوت ہونے کی وجہ سے بیوی کو اِعتکاف میں بیٹھنے سے منع کرسکتا ہے ،البتہ اُسے بلاوجہ منع کرکے عورت کو اِعتکاف سےمحروم نہیں کرنا چاہیئے اور اِجازت دیدینی چاہیئے۔(بدائع الصنائع:2/108 ، 109)( ردّ المحتار:2/441)(احکامِ اِعتکاف،عثمانی:59) (6)شوہر کی اِجازت سے عورت اگر اِعتکاف میں بیٹھ جائے تو اس کے بعد شوہر کیلئے بیوی کو منع کرنا درست نہیں ،اگر منع کرے گا تو بیوی کے ذمّہ اس کی تعمیل واجب نہیں۔(بدائع الصنائع:2/109)( ردّ المحتار:2/441)(احکامِ اِعتکاف:59)