گلدستہ سنت جلد نمبر 3 |
صلاحی ب |
|
اس وقت عمرفاروق رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں تکیے کا سہارا لیے بیٹھے تھے۔ جب سلمان فارسی رضی اللہ عنہ آئے تو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے تکیہ اُن کی خدمت میں پیش کردیا۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے تکیے کو جب دیکھا تو کہا: اَللہُ أَکْبَرُ، صَدَقَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ. ترجمہ: ’’اللہ بہت بڑا ہے، اُس کے رسولﷺ نے سچ کہا‘‘۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سنا تو تڑپ اُٹھے۔ کہا کہ اے ابو عبداللہ! مجھے اپنے حبیب نبیﷺ کا فرمان تو سناؤ۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ایک مرتبہ میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپﷺ تکیےکا سہارا لیے تشریف فرما تھے۔ آپﷺ نے وہ تکیہ میری طرف کر دیا اور فرمایا کہ اے سلمان! جب کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے پاس آئے اور میزبان اُس کے اِکرام میں تکیہ پیش کرے تو اُس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (کتاب الاخلاق للطّبرانی: رقم 151) سبحان اللہ! اللہ ربّ العزّت تکیہ پیش کرنے والے کی مغفرت فرمادیتے ہیں۔چادر کا تکیہ بنانا بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ تکیہ پاس نہیں ہے اور چادر ہے۔ اب ضرورت کی وجہ سے چادر یا کوئی بھی چیز کمبل وغیرہ کو بطورِ تکیہ استعمال کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قبیلہ مراد کے ایک صحابی حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ آپﷺ کے پاس تشریف لائے، تو دیکھاکہ نبیﷺ اپنی لال دھاری دار چادر کا تکیہ بنائے ہوئے اس سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ اصل تکیہ موجود نہیں تھا تو آپﷺ نے جو چیز موجود تھی اُس کا تکیہ بنا کر استعمال کرلیا۔