گلدستہ سنت جلد نمبر 3 |
صلاحی ب |
|
ایک بزرگ فرماتے تھے کہ کوئی شخص بلندی حاصل نہیں کرسکتا سوائے اچھے اخلاق کے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے ملا کرو گو اُن کے اعمال کی مخالفت کرو۔ مطلب یہ ہے کہ کسی سے ہمارا اختلاف ہے، اس کا عمل اور ہے ہمارا عمل اور ہے، اس کی سوچ اور ہے ہماری سوچ اور ہے، اس کا انداز اور ہے ہمارا انداز اور ہے، ان تمام اختلافات کے باوجود جب ہماری اس سے ملاقات ہو تو فرمایا کہ اچھے انداز سے ہی ملا کرو۔ جیسا کہ پہلے یہ بات ذکر کی کہ حضور نبی کریمﷺ نے ایک آدمی کا حال بیان کیا تھا کہ میری اُمت کا ایک شخص گھٹنے کے سہارے چلتا ہوا آیا، اس کے اور اللہ ربّ العزّت کے درمیان پردہ تھا۔ یعنی خدا سے دور تھا تو اُس کے حُسنِ اخلاق کی وجہ سے جو دنیا میں اختیار کیے ہوئے تھے، جنت میں داخل کردیا گیا۔حسنِ اخلاق میں برکت اللہ تعالیٰ نے حُسن اخلاق میں برکت ہی برکت رکھی ہے۔ حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنها کی مختصر حدیث ابھی بیان کی۔ ذرا تفصیل اسے ذکر کرتے ہیں۔ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ ایک عورت ایسی ہے جس کے دو شوہر ہوں۔ مثال کے طور پر ایک عورت کی شادی ہوئی شوہر کا انتقال ہوگیا، اس نے دوسری شادی کرلی پھر اس کا بھی انتقال ہوگیا۔ پھر اس عورت کا بھی انتقال ہوگیا۔ تینوں نیک تھے، تینوں کا فیصلہ ہوگیا اور تینوں جنت میں پہنچ گئے۔ اب یہ عورت جس کے دنیا میں دو شوہر ہوئے تھے یہ عورت جنت میں کس شوہر کے پاس رہے گی؟ یہ سوال پوچھا گیا تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کے اخلاق اچھے ہوں گے وہ اس کے پاس رہے گی۔