گلدستہ سنت جلد نمبر 3 |
صلاحی ب |
|
دنیا و آخرت کی بھلائی کیسے حاصل ہو؟ نبی ﷺ نے حضرت اُمّ ِحبیبہ رضى الله عنها سے ارشاد فرمایا: اے اُمّ حبیبہ! حُسنِ اخلاق والے دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کریں گے۔ (معجم کبیر للطبرانی: 411/23) دنیا میں یہ لوگوں کے نزدیک محبوب ہوں گے اور قیامت میں یہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوں گے، اللہ کے یہاں مقبول ہوں گے، اور نبی ﷺ کے محبوب بھی ہوں گے، اور نبی ﷺ سے قریب بھی ہوں گے۔ جن کے اخلاق اچھے ہیں دنیا میں لوگ ان سے باتیں کرتے ہیں، ان سے ملتے ہیں، ان کو اپنے پاس بٹھانا پسند کرتے ہیں۔ ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ اچھے اخلاق جنت کے اعمال میں سے ہیں۔ یعنی اچھے اخلاق والا ان شاءاللہ العزیز جنت میں پہنچے گا۔دو بہترین عادتیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی ملاقات حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر! کیا میں تمہیں دو پیاری باتیں نہ بتائوں، دو ایسی عادات کی نشاندہی نہ کروں جو کرنے میں آسان ہوں، لیکن قیامت والے دن دوسرے کے اعمال کی بہ نسبت ترازو میں بہت وزنی ہوں؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ضرور بتائیے۔ (نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ دوعادتیں یہ ہیں: (۱) حُسن اخلاق (۲) خاموشی) فرمایا کہ حُسن اخلاق اور خاموشی کو لازمی پکڑ لو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! ان دونوں سے بہتر کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انسان مُزین ہو۔ (مسند ابی یعلیٰ: رقم 3298)