گلدستہ سنت جلد نمبر 3 |
صلاحی ب |
|
اس نے کہا کہ نہیں۔ وہ نوجوان ہر اعتبار سے شادی کے قابل تھا۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا تم احمق ہو، یا پھر گناہ گار ہو۔ (مصنف ابن عبدالرزّاق: 170/4) غبی یا ولی یہ دولفظ ہیں، دو طرح کے لوگ ہیں جو گناہ سے بچ سکتے ہیں۔ ولی وہ جس کے دل میں خدا کا خوف ہو، اور غبی وہ جو پاگل ہو۔ ورنہ آج کے اس دور میں گناہوں سے بچنا، بے حیائی سے بچنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے نکاح کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حضرت عکّاف رضی اللہ عنہ کی حدیث پہلے گزری جس میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بدترین اور سب سے زیادہ ذلیل وہ ہے جو بے نکاح ہے۔ (مسند عبد الرزّاق: 171/6) حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت حکمت دی تھی۔ ان کا دَور آج تک مثالی دَور کہلاتا ہے۔ وہ فرماتے تھے کہ مجھے اس نوجوان سے سخت خوف ہے جس نے شادی نہیں کی، یہ گناہوں میں پڑ جائے گا۔ (کنزالعمّال: 487) اپنی عزت کو، عفّت کو، پاک دامنی کو نہیں بچا پائے گا۔حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا کی نصیحت نبی ﷺ کے پردہ فرما جانے کے بعد حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے اِرادہ کیا کہ میں شادی نہیں کروں گا۔ جب اس ارادے کا اُن کی بہن اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا کو علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ عبداللہ! تم ایسا نہ کرنا۔ بھائی! تم شادی کرو، اس سے تمہاری اولاد ہوگی، اولاد اگر چھوٹی عمر میں انتقال کر گئی تو تمہارے لیے نجات کا ذریعہ بنے گی، اور اگر بڑی ہوگئی تو خیر وبرکت کا ذریعہ بنے گی۔ (مصنف ابنِ ابی شیبہ: 176/6)