گلدستہ سنت جلد نمبر 3 |
صلاحی ب |
|
کیوں کہ اب ان میں ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ اور جنہوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا انہوں نے کیا کیا؟ انہوں نے پہلے تو سامان رکھا، اس کے بعد خیمے نصب کیے۔ اور جو لوگ روزے سے تھے، ان کا سامان بھی ترتیب سے رکھا۔ اس کے علاوہ اپنی اور ان کی سواریوں کو باندھا۔ ان کی اس خدمت کو دیکھ کر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ذَھَبَ الْمُفْطِرُوْنَ الْیَوْمَ بِالْأَجْرِ. (متفق علیہ) ترجمہ: آج (خدمت کی وجہ سے) روزہ نہ رکھنے والے اَجر میں آگے بڑھ گئے۔ ہم نے بڑوں سے سنا ہے کہ عبادت سے جنت ملتی ہے اور خدمت سے خدا ملتا ہے۔ لیکن آج افسوس کی بات یہ ہے کہ اس عظیم ثواب سے ہم سب محروم ہیں، حتیٰ کہ استاذ کے ساتھ شاگرد یا شیخ کے ساتھ مرید اس لیے نہیں جاتا کہ خدمت کرنی پڑے گی۔ یاد رکھیے کہ خدمت کرنا بڑی سعادت ہے، اس سے اللہ کا قرب ملا کرتا ہے۔سفر میں شادی کرنا نبی ﷺ نے سفر میں شادی بھی کی ہے۔ تو سفر میں رشتہ طے ہونا یا شادی کرلینا کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ خیبر سے فارغ ہو کر نبی ﷺ مکہ مکرمہ عمرے کے لیے تشریف لائے۔ یہ 7 ہجری کا واقعہ ہے۔ اسی حالتِ سفر میں حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا سے نکاح کیا۔ چناں چہ نبی ﷺاِحرام ہی کی حالت میں تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نکاح کا خطبہ پڑھا اور نکاح ہوگیا۔ اس کے بعد جب نبی علیہ السلام عمرے سے فارغ ہو کر واپس آئے تو مقامِ سَرِفْ میں آپ کی رخصتی ہوئی اور وہیں رات گزاری۔ (متفق علیہ) یہاں سے دو باتیں نکلتی ہیں:ـ (۱) سفر کے اندر نکاح کی ممانعت نہیں ہے۔