گلدستہ سنت جلد نمبر 3 |
صلاحی ب |
|
ہوتا ہے۔ اور بداخلاقی کی وجہ سے جہنم میں نیچے تک چلا جاتا ہے حالاں کہ وہ عبادت گزار ہوتا ہے۔ (معجم کبیر للطبرانی: رقم 754) عبادت میں کمزور ہونے سے کیا مراد ہے؟ فقط فرائض پورے کرلیے، واجبات پورے کرلیے۔ بہت زیادہ نفل تو نہیں پڑھتا مگر نماز خشوع اور اہتمام سے پڑھتا ہے۔ بہت زیادہ مراقبے بھی نہیں کرتا لیکن اخلاق کے اندر وہ اتنا میٹھا ہے کہ ہر آدمی اس سے بات کرنا پسند کرتا ہے۔ ہر آدمی اس کے قریب ہونا پسند کرتا ہے۔ ان اخلاق کی وجہ سے وہ عبادت گزار لوگوں سے آگے چلا جاتا ہے۔ دوسروں کا خیال رکھتا ہے تو اس بندے کو اللہ ربّ العزّت جنت کے اعلیٰ درجات عطا فرمادیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح یہ بھی اسی حدیث میں ذکر کیا ہے کہ جہنم کے نیچے والے درجے کو انسان اپنی بداخلاقی کی وجہ سے حاصل کرلیتا ہے۔ جس کے اخلاق اچھے نہیں ہوتے اللہ ربّ العزّت اس کو جہنم میں بھیج دیتے ہیں اگرچہ وہ بڑی بڑی عبادتیں کرکے آیا ہو، بڑے اعمال کیے ہوں۔جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا قول جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ چار خوبیاں ایسی ہیں، چار صفات ایسی ہیں جو انسان کو بہت ہی بلند و بالا درجات پر پہنچادیتی ہیں گو اس کا عمل کم ہو۔ یعنی صرف فرائض ہی پورے ہوں، بہت زیادہ عبادات نہ ہوں، بہت زیادہ دین کے لیے محنت نہ کی ہو۔ لیکن چار چیزیں ایسی ہیں جو انسان کو اعلیٰ ترین مقام پر پہنچادیتی ہیں۔ غور کرنے والی بات ہے کہ وہ کون سی چار باتیں ہیں؟ 1 تحمل مزاجی 2 سخاوت 3 تواضع اپنے آپ کو جھکا کررکھنا۔ 4 حُسنِ اخلاق یہ چار باتیں جس کے اندر ہیں اس کو بلند و بالا درجات مل جایا کرتے ہیں۔