گلدستہ سنت جلد نمبر 3 |
صلاحی ب |
|
وہاں تھوڑے دنوں کے لیے جانا ہوتا ہے تو اگر ہم بازاروں کا رخ کرتے رہے تو بہت نقصان ہوگا۔ بیت اللہ کا طواف کریں یہ زیادہ مناسب ہے بازار کے طواف سے۔ باقی اگر کوئی جائے نماز وغیرہ کسی کو دینی ہو تو یہاں سے پہلے سے خرید کر رکھ لیں، اور واپسی پر آسانی کے ساتھ دے دیں تا کہ بات بھی پوری ہوجائے۔ کھجور اور پانی بہترین تحفہ ہے، اس سے بہتر چیز وہاں سے یہاں لانے کے لیے کچھ اور نہیں ہے۔ مسافر کو رخصت کرنا اسی طرح سفر کے لیے جب کوئی مسافر روانہ ہوتا ہے تو اس کو رخصت کرنا بھی سنت ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ سے کتنی محبت تھی کہ آپ کی ایک ایک بات کو نوٹ کیا کرتے تھے۔اللہ اکبر کبیرا! صحابہ کرام رضی اللہ عنہ دیکھ رہے ہیں کہ نبی ﷺ مسافر کو چھوڑنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔ ذرا یہ واقعات سن لیجیے! (۱) معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میرے ساتھ پیدل چلتے ہوئے مجھے نصیحت فرماتے رہے اور میں سواری پر تھا۔ اخیر میں آپﷺ نے فرمایا تھا کہ اے معاذ! اب جب تم آؤ گے تو تمہارا گزر میری قبر سے ہوگا۔ یہ سن کر شدتِ غم سے حضرت معاذرضی اللہ عنہ بہت روئے تھے۔ (مسند احمد) (۲) انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں سفر پر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں، مجھے توشہ دیجیے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کو توشہ بنانے کا حکم دیا ہے۔ نبی ﷺ نے اسے دعا دیتے ہوئے فرمایا: زَوَّدَکَ اللّٰهُ بِالتَّقْوٰى.