گلدستہ سنت جلد نمبر 3 |
صلاحی ب |
|
نلکی میں رکھا تھا، پائپ سا بنایا ہوا تھا۔ کوئی بیمار ہوجاتا یا نظر لگ جاتی تو شفا کے لیے اور نظر اُتارنے کے لیے نبی ﷺ کے بال مبارک کو پانی میں ڈالا جاتا اور ہلایا جاتا، پھر اُس پانی کو پی لیا جاتا تو اُس مریض کو شفا مل جاتی تھی۔ یہ بال مبارک کی برکت تھی۔ چنانچہ اس سے سینکڑوں مریض صحت یاب ہوئے۔ سینکڑوں نظر والے بچوں کو شفا ملی۔ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل سے معلوم ہوا کہ بال مبارک سے برکت حاصل کرنا جائز ہے، درست ہے اور برکت اور سعادت کی بات ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ’’فتح الباری‘‘ میں لکھا ہے کہ مریض ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے پاس جاتے تھے اور وہ پانی دیا کرتی تھیں۔ تو حضرات صحابہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک نبی ﷺ کے بال مبارک کی بڑی برکت تھی۔ اسی طرح ایک صحابی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھی ایک بال مبارک ملا تھا۔ جس کا ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ حضرت خالد بن ولدین رضی اللہ عنہ نے اس موئے مبارک کو سلوا کر اپنی ٹوپی میں رکھ لیا۔ اس کے بعد حضرت خالد جس جنگ میں جاتے وہ ٹوپی ساتھ ہوتی اور فتح یاب واپس لوٹتے۔ آپ جانتے ہیں کہ لڑائی میں شور ہونا، چیخ وپکار ایک لازمی بات ہے۔ ادھر سے تلوار کی جھنکار ہے گھوڑوں کی چیخ وپکار ہے، ادھر لاش گررہی ہے، ادھر کوئی زخمی ہے۔ کچھ عجیب ماحول ہوتا ہے۔ اللہ کی شان ایک دن ایسا ہوا کہ وہ ٹوپی گرگئی۔ یہ بڑے پریشان ہوئے۔ وہ ٹوپی مشرکین کے علاقے میں گری تھی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے دوبارہ فوج کو جمع کرکے حملہ کیا۔ لوگ سمجھے ٹوپی کے لیے حملہ کرتے ہیں، ٹوپی کی کیا قیمت ہے کہ ٹوپی کے لیے دوبارہ حملہ کررہے ہیں۔ لڑائی ختم ہوگئی چلو بس اللہ اللہ خیر سلّا! اللہ نے آسانی کردی۔ انہوں نے ایک ٹوپی کے لیے باقاعدہ ایک جنگ کی اور جنگ کرکے اپنی وہ ٹوپی حاصل کی۔ ٹوپی حاصل ہوگئی تو کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے کہ ایک ٹوپی کی