انوار رمضان |
ضائل ، ا |
|
”مَنْ شَغَلَهُ الْفَرْضُ عَنِ النَّفْلِ فَهُوَ مَعْذُوْرٌ وَمَنْ شَغَلَهُ النَّفْلُ عَنِ الْفَرْضِ فَهُوَ مَغْرُوْرٌ “ جو فرض میں لگنے کی وجہ سے نوافل کا اہتمام نہ کرسکا وہ معذور ہے، اور جو نوافل میں لگنے کی وجہ سے فرض کا اہتما نہ کرسکا وہ دھوکے میں ہے۔(فتح الباری:11/343) حضرت عبد اللہ بن عباسسے کسی سائل نے سوال کیا کہ یہ بتائیے کہ کوئی شخص دن بھر روزہ رکھے اور رات بھر نفلیں پڑھتا رہے لیکن جمعہ اور جماعت میں شریک نہ ہوتا ہو(اِس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں)حضرت عبد اللہ بن عباسنے فرمایا :”هُوَ فِي النَّارِ“وہ جہنمی ہے۔(ترمذی:218) ایک دفعہ حضرت اُمِّ انس نے نبی کریمﷺسے وصیت کی درخواست کی،آپ ﷺنےاِرشاد فرمایا:”اُهْجُرِي الْمَعَاصِيَ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ وَحَافِظِي عَلَى الْفَرَائِضِ، فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْجِهَادِ، وَأَكْثِرِي مِنْ ذِكْرِ اللهِ، فَإِنَّكِ لَا تَأْتِي اللهَ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ كَثْرَة ذِكْرِهِ“ گناہوں کو ترک کردو اِس لئے کہ یہ سب سے افضل ہجرت ہے، فرائض کی حفاظت کرو کیونکہ یہ سب سے افضل جہاد ہے،اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اِس لئے کہ تم اللہ تعالیٰ کےپاس اُس کے ذکر کی کثرت سے زیادہ بڑھ کوئی محبوب چیز لے کر نہیں جاسکتیں۔(طبرانی کبیر:25/129) ایک اور روایت میں ہے،نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا:”أَقِيمِي الصَّلَاةَ، فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْجِهَادِ“ نماز قائم کرواِس لئے کہ یہ افضل جہاد ہے۔(طبرانی کبیر:25/149)