موضوعاتی درس قرآن ۔ سورہ رحمن |
|
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ ، اَلَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ‘‘۱؎ ’’پھر بڑی خرابی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں‘‘ حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے: ’’مَا رَأَيْتُ النَّبِیَّ ﷺ صَلّٰى صَلَاةً بِغَيْرِ (لِغَيْرِ) مِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ مِيْقَاتِهَا‘‘۲؎ ’’میں نے نبی کریم کونہیں دیکھا کہ آپ نے کوئی نماز اس کے وقت کے علاوہ میں پڑھی ہو، مگر دو نمازیں یعنی مغرب اور عشاء (مزدلفہ میں )آپ نے جمع فرمائیں اورفجر کو اس کے وقت معتاد سے پہلےادا کیا‘‘۳؎ ان آیاتِ مبارکہ اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازوں کو ان کے اوقاتِ مقررہ پر ادا کیا جائے گا،اس میں تقدیم و تاخیر جائز نہیں ہے۔وقتِ عشاء احادیث کی روشنی میں : اور پھرشریعت میں عشاء کے وقت کی وضاحت بھی ہے کہ آپ کس وقت عشاء پڑھتے تھے؟اور کس وقت پڑھنے کا حکم فرماتےتھے؟ایک حدیث میں ہے: ’’وَيُصَلِّی الْعِشَاءَ حِيْنَ يَسْوَدُّ الْأُفُقُ‘‘۴؎ ’’اور آپ عشاء کی نماز پڑھتے جس وقت افق سیاہ ہوجاتا‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت انسنے ایک مرتبہ آپ سے پوچھا کہ میں عشاء کی نماز کب پڑھوں؟تو آپ نے کہا کہ’’حِیْنَ اِسْوَدَّ الْاُفُقُ‘‘۵؎جس وقت افق سیاہ ہوجائے تو اس وقت عشاء پڑھ لو،معلوم ہواکہ سفید شفق کے غائب ہونے کےبعدجب سیاہی چھا جائے اس وقت عشاء کا وقت شروع ہوتا ہے۔ ------------------------------ ۱؎:الماعون:۴و۵۔ ۲؎:صحیح بخاری:باب من یصلی الفجر بجمع:۱۶۸۲۔ ۳؎:تحفۃ الاحوذی:باب ماجاء فی الاسفار بالفجر،و مرقاۃ:۹؍۱۵۷۔ ۴؎:سنن ابی داود:باب فی المواقیت،۳۹۴۔ ۵؎:نصب الرایہ:۱؍۲۳۴۔