موضوعاتی درس قرآن ۔ سورہ رحمن |
|
جنت کے کھجور کےبارے میں ابن عباس کہتے ہیں کہ اس کی لمبائی بارہ ہاتھ کی ہوگی،اور اس کے اندر گٹھلی نہیں ہوگی۔اور بعض روایات میں ہے کہ ایک ہی کھجور سے کئی لوگ کھائیں گے۔۱؎اور کھجور کے درختوں کے تنے زمرد کے اور پتے سرخ سونے کے ہوں گے،ان کے ریشوں سے اہل جنت کے لباس اور جوڑے بنائے جائیں گے،اور ان کے پھل ڈولوں اور مٹکوں کے برابر ہوں گے،دودھ سے زیادہ سفید،شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے،اور ان میں گٹھلی نہیں ہوگی۔۲؎جب ایک پھل توڑا جائے گا تو اس کی جگہ فورا ًدوسراا ٓجائے گا۔۳؎جنت کا اَنار : ایسے ہی جنت کا انار ہوگا،علامہ آلوسی نےروح المعانی میں ایک روایت نقل کی ہےکہ آپ نے فرمایا کہ میں نے جنت میں انار کا ایک درخت دیکھا، اُس کے اناراُس اونٹ کے برابر تھے جو پالان کے ساتھ ہو۔۴؎ آپ سوچیں گے کہ اتنا بڑا انار کیسے توڑیں گے؟ فرمایا: قُطُوْفُھَا دَانِیَۃٌ ۵؎ اس کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے۔وہ خود ہی آپ کے پاس آکر جھک جائے گا۔ اہل جنت کو جب پھل دئے جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ اس سے پہلے بھی اس جیسا پھل ہمیں دیا گیا:’’وَاُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِھًا ‘‘ ۶؎ لیکن وہ لذت میں اور خصوصیات میں دنیا کے پھلوں سے بالکل ممتاز اور منفرد ہوں گے۔جنت کے پھلوں سے لباس اورحور نکلیں گے : انہیں پھلوں کے ریشوں سے جنتیوں کا لباس تیار کیا جائے گا،وہ پھل کھائیں گے اوران پھلوں سے ان کے لئے لباس اور جوڑے نکلیں گے۔۷؎ ------------------------------ ۱؎:تفسیرمظہری:۹؍۱۶۱۔۲؎:مستدرکِ حاکم:باب تفسیر سورۃ الرحمن،۳۷۷۶۔۳؎:تفسیر طبری:۱۷؍۱۸۶۔ ۴؎:روح المعانی :۱۴؍۱۲۱۔ ۵؎:الحاقۃ:۲۳۔ ۶؎:البقرۃ:۲۵۔۷؎: مستدرکِ حاکم:باب تفسیر سورۃ الرحمن،۳۷۷۶۔