موضوعاتی درس قرآن ۔ سورہ رحمن |
|
(جن کے پاس انسانوں کے مقابلہ میں کئی گناہ زیادہ قوت ہوتی ہے) اگر حق تعالیٰ سے یا اس کے حساب و کتاب اورعذاب سے یا محشر سے یا موت سے بھاگنا چاہیں تو بھاگ کر دکھائیں۔جب وہ نہیں بھاگ سکتے تو انسان کیسے بھاگ سکتےہیں؟۱؎قربِ قیامت آسمان کا پھٹنا اور فرشتوں کا اترنا : بعض علماء نے کہا کہ یہ آیت آخرت سے متعلق ہے،جب قیامت قائم ہوگی تو اللہ پاک آسمان کو حکم دیں گے تو وہ پھٹ جائے گا،اس کے بعد فرشتے رب العالمین کے حکم سےزمین پر اتریں گے،اسی کو قرآن نے کہا ہے : وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِکَةُ تَنْزِیْلاً ۲؎ اورجس روز آسمان ایک بدلی پر سے پھٹ جائے گا۔اور فرشتے بکثرت زمین پر اتارے جائیں گے۔ پھر وہ فرشتے صف بنائیں گے، آسمانِ اوّل کے فرشتے آئیں گے اور پورے میدانِ حشر کو صف بناکر گھیر لیں گے۔ اس کے بعد آسمانِ دوم کے فرشتے آئیں گے۔ وہ اُس کے اوپر گھیرا ڈال لیں گے۔اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے آئیں گے۔اس کے بعد مَلکِ اعلیٰ آئیں گے (حدیث میں ’’مَلکِ اعلیٰ‘‘ کا لفظ ہے) ان لوگوں کے ساتھ جہنم ہوگی۔ اس جہنم کو دیکھتے ہی میدانِ حشر میں ایسی بھگدڑ مچے گی اور ایسی گھبراہٹ ہوگی کہ جس آدمی کو جدھر سوجھے گا وہ اُدھر ہی بھاگے گا۔ لیکن اس جگہ کو ساتوں آسمانوں کے فرشتے گھیرنے کی وجہ سے ان کو بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔ پھر وہ لوگ دوبارہ اپنی جگہ پر ہی آکر کھڑے ہوجائیں گے۔۳؎ ------------------------------ ۱؎:تفسیرِ رازی:۲۹؍۳۶۵۔ ۲؎:الفرقان:۲۵۔ ۳؎: تفسیر طبری:۲۰؍۳۱۹۔