موضوعاتی درس قرآن ۔ سورہ رحمن |
|
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’قیامت میں سب سے پہلے آدمی کی بائیں ران بولے گی کہ یہاں سے کیا کیا اعمال صادر ہوئے ہیں؟‘‘۱؎انسان کے اعضاء خداکے کیمرے : اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم کا ایسا نظام رکھا ہے کہ جب بھی اس سے کوئی عمل صادر ہوتا ہے تو وہ اس کی فوٹو لے لیتا ہے۔ اور وہ اس کیمرے میں محفوظ ہوجاتا ہے۔ جب نامۂ اعمال اور آدمی کے اعضاء گواہی دیں گے تو اس سے سوال کیا جائے گا کہ تونے یہ کیوں کیا؟کسی کے گناہ کے بارے میں یہ نہیں پوچھا جائے گاکہ تونے یہ کیا ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تو نے یہ کیوں کیا؟ تجھے ہمت کیسے ہوئی؟کیا تواپنے خدا کو بھول گیا تھا؟ اُس کی عظمت کو بھول گیاتھا؟ اُس کے عذاب کو بھول گیاتھا؟ اُس کی سزا کو بھول گیاتھا؟ آخر تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا ؟۔یہ سوال کل آدمی سے ہوگا۔مجرموں کی شناخت ان کے چہروں سے ہوگی : یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمَاهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَالْأَقْدَامِ ۴۱فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ۴۲ مجرم لوگ اپنے حلیہ سے (کہ سیاہی چہرے و نیلگوں چشم ہے)پہچانیں جائیں گے،سو ان کے سر کے بال اور پاؤں پکڑ لئے جائیں گے،سو اے جن و انس! تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟ایک دفعِ دخلِ مقدر : یہ آیت دراصل ایک اعتراض کا جواب ہےکہ جب مجرموں سے ان کے جرم کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا تو فرشتوں کو کیسے پتہ ہوگا کہ وہ جہنمی ہیں ؟اس کا جواب ------------------------------ ۱؎:صحیح مسلم:کتاب الزہد و الرقاق: ۲۹۶۸؍ ۲۔