برادران قادیان ان کو نہایت بے باکی سے اپنے امام اور اس کی اولاد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ہم رسالت کے خادم اس کو بے ادبی وگستاخی قرار دیتے ہیں۔ دنیا میں عزت افزا الفاظ کی کمی نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ الفاظ مذکورہ ہمارے پیغمبرﷺ کے لئے کہیں باضابطہ طور پر رجسٹری نہیں ہوئے۔ لیکن احترام خاندان محمدﷺ کی وجہ سے برادران قادیان ان کا حد سے زیادہ آزادانہ استعمال ترک کردیں تو ان کی عنایت ہوگی۔ مثلاً مرزاقادیانی کی بیگمات کو امہات المؤمنین لکھا جاتا ہے اور ان کے جانشین وقت کے ہر حرم محترم کو سیدہ کا لقب دیا جاتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ!
میرے ان فقرات کو بحث عقائد سے تعلق نہیں۔ یہ محض ایک درمندانہ اپیل ہے اور بس۔
قسط سی ویکم (۳۱)
مرزاقادیانی نے کرشن ہونے کا دعویٰ سب سے پہلے اپنے سیالکوٹ کے لیکچر میں کیا۔ یہ لیکچر قادیانی جماعت سیالکوٹ کی طرف سے بصورت کتاب شائع ہوچکا ہے۔ مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور نے یہ کتاب مجھے عاریتہ مطالعہ کے لئے دی تھی۔ جو میں نے واپس کردی۔ اس کتاب کے (ص۱۳، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸) پر یہ دعویٰ موجود ہے۔ صفحات ۳۳،۳۴ پر اس دعویٰ کو ادعائے مسیحیت سے مدغم کر کے ایک ہی دکھایا گیا ہے۔ کرشن مہاراج کو نبی بتایا گیا ہے۔ مسیح موعود مرزاقادیانی ہیں وہ کرشن بھی ہیں۔ لہٰذا کرشن اور مسیح موعود ایک ہی ہیں۔
میں نے ابتدائی اقساط میں جہاں مرزاقادیانی کے دعاوی گنوائے ہیں۔ وہاں جناب مرزاقادیانی موصوف کی کتابوں کے حوالے دے کر ان کے کرشن ہونے کے ادّعا کو پایۂ ثبوت تک پہنچایا ہے۔ لیکن اس خیال سے کہ ناظرین کرام کو گذشتہ اقساط نکال کر ثبوت کے ملاحظہ فرمانے میں تکلیف نہ ہو۔ میں یہ لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ کے لیکچر سیالکوٹ کے علاوہ (جس کا حوالہ اوپر درج ہوچکا ہے) کتاب (البشریٰ جلد اوّل ص۵۶) پر آپ کے متعلق، ہے کرشن جی رودرگوپال کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔ اسی کتاب کے اسی صفحہ پر ان کو ’’آریوں کا بادشاہ‘‘ لکھا ہے اور اسی کتاب کی دوسری جلد کے ص۱۱۸ پر ان کا نام ’’امین الملک جے سنگھ بہادر‘‘ قرار دیاگیا ہے۔ ایک اور مقام پر آپ نے خود کو ’’کلغی والے‘‘ کا خطاب بھی دیا ہے۔ جس سے مراد سکھوں کے دسویں گرو لئے جاتے ہیں۔
حوالے تو اور بھی متعدد دئیے جاسکتے ہیں۔ لیکن زیر نگاہ مقصد کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ مرزاقادیانی کے کرشن ہونے کے دعویٰ پر متعدد پہلوؤں سے بحث ہوسکتی ہے۔ سب سے