’’اللہم اعاذنا من مکائد الشیطٰن‘‘
یہودی سازشیں
یہودی قوم کی تاریخ سازشوں سے بھرپور ہے۔ اس قوم نے قدم قدم پر امت مسلمہ کے خلاف سازشیں تیار کیں۔ انہیں پروان چڑھایا۔ ان کے لئے اپنا سرمایہ وقف کیا اور ملت اسلامیہ کے اجتماعی نظام کو تباہ وبربادکرنے کے لئے تخریب کاریوں کے جال پھیلائے۔ اسلام کی سیاسی مرکزیت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے انہوں نے سب سے پہلے حضرت عثمانؓ کے عہد میں سبائی تحریک کا آغاز کیا۔ عبداﷲ بن سبا ایک یہودی تھا۔ جو یمن کا رہنے والا تھا۔ اس نے اپنی صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے امت مسلمہ میں انتشار وافتراق کے سامان تلاش کئے۔ ان کی قبائلی عصبیت کو استعمال کیا۔ بنو امیہ اوربنو ہاشم کی پرانی دشمنی کی آگ کو اپنی سازشوں کی ہوا سے بھڑکایا اور اس طرح سبائی تحریک نے بصرہ سے مصر تک بے اطمینانی کی ایک لہر پیدا کردی۔
نیا طریقۂ واردات
یہودیوں کے سازشی ذہن نے ملت اسلامیہ میں نقب زنی کے لئے سب سے آسان اور مؤثر راستہ جو تلاش کیا وہ جھوٹی نبوت کا راستہ تھا۔ یہودیوں کے ذہن رسانے چھوٹے موٹے نبی تو ہر دور میں پیدا کئے۔ لیکن عثمانی خلافت کے ترکی میں ’’شبتے سیبی‘‘ اور انگریزی حکومت کے ہندوستان میں ’’مرزاغلام احمد قادیانی‘‘ کو بڑے ہی منظم طریقے سے مسیح موعود بنایا۔
ترکی کا مسیح موعود
۱۶۶۶ء میں شبتے سیبی نے ترکی کے علاقے ازمیر اور سالونیکا میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ شبتے سیبی پہلے یہودی تھا۔ سالونیکا میں بہت بڑی تعداد اس پر ایمان لائی۔ پھر اس نے اپنے تبلیغی سفر کا آغاز کیا۔ طرابلس الغرب اور شام سے ہوتا ہوا بیت المقدس پہنچا۔ پھر یہاں سے سمرنا پہنچا اور ترکی میں دعوت عام کا آغاز کیا۔ شبتے کے اثرات ترکی کی سرحدوں سے نکل کر اطالیہ، جرمنی اور ہالینڈ تک پہنچ گئے۔ دار الحکومت استنبول میں بھی اس کے حامی پیدا ہوگئے۔ جب سلطان محمد خان چہارم نے اس کی گرفتاری کا اعلان کیا تو اس نے توبہ کر لی اور دائرہ اسلام میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ ترک اسے اور اس کے پیروؤں کو دونمہ مسلمان کہتے ہیں۔ انہوں نے مسلمان معاشرے میں شامل ہونے کے بعد اپنی سرگرمیاں اور تیز کردیں۔ سرمایہ دار ہونے کی وجہ سے انہوں نے منڈی وبازار پر تو پہلے ہی قبضہ کر رکھا تھا۔ امت مسلمہ میں شامل ہو کر انہوں نے فوج اور سول کے مناصب پر بھی قبضہ کرنے کا باقاعدہ پروگرام بنایا اور اس طرح ترکی کے اسلامی