یہ انداز گفتگو ہے
کسی بھی مذہبی رہنما کے لئے گفتگو کی پاکیزگی بہت ضروری ہے۔ اگر اس کی زبان سے اخلاق کی بجائے گالیوں کے موتی جھڑتے ہوں اور وہ دشنام طرازی کو اپنی تبلیغ کا ہتھیار بنالے تو کوئی بھی اسے معقول آدمی تسلیم کرنے کو تیار ہوتا۔ اب ذرا مرزا قادیانی کی خوش گفتاری کے چند شاہکار بھی دیکھئے:
۱… ’’جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔‘‘ (انوارالاسلام ص۳۰،خزائن ج۹ص۳۱)
۲… ’’یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھارہے ہیں۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۲۵،خزائن ج۱۱ص۳۰۹)
۳… ’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔‘‘ (نجم الہدیٰ ص۱۰،،خزائن ج۱۴ص۵۳)
۴… ’’ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر بدکار عورتوں کی اولاد نہیں مانتے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷،خزائن ج۵ص۵۴۷)
اپنے اس کلام بلاغت نظام میں مرزا قادیانی نے اخلاق کے جو موتی بکھیرے ہیں وہ آپ نے دیکھ لئے۔ ’’حرام زادہ‘‘ کا لفظ تو گویا مرزا قادیانی کا تکیہ کلام ہے۔ بلکہ بسترۂ کلام ہے۔ اس لفظ کے ادا کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ یہ مرزا قادیانی کے صاحبزادہ اور دوسرے خلیفہ میاں محمود احمدکی زبانی سنئے: ’’میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ ایک شخص زور زور سے کہہ رہا تھا کہ اس حرام زادے کو میرے سامنے لائو۔ جو کہتا ہے کہ کتے کا جھوٹا جائز نہیں۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں کہا گیا تھا کہ کسی کو حرام زادہ کہنے والے کو حد لگائی جائے۔‘‘
(خطبہ جمعہ مندرجہ الفضل قادیان ۱۲،فروری۱۹۲۲)
حد لگانے کی بات سناتے وقت میاں صاحب کو اپنے بزرگوارم کی کتابیں یاد نہیں رہیں۔ وگرنہ ایسی بات منہ سے نہ نکالتے۔ مرزا قادیانی کی خوش گفتاری کی صرف ایک مثال اور