تذکیرات جمعہ |
|
’’اِنَّ اِلٰهَهٗ لَيَاْمُرُ بِمَكَارِمِِ الْاَخْلَاقِ وَهِيَ اَجْمَعُ اٰيَةٍ فِي الْقُرْآنِ لِلْخَيْرِ وَالشَّرِّ‘‘(تفسیر نسفی:۲؍۱۷۶) بے شک ان کا معبود مکارمِ اخلاق کا حکم دیتا ہے،اور یہ قرآن میں خیر اور شر کے لئے سب سے جامع آیت ہے۔ جب کفار اس کا اقرار کررہے ہوں تو آپ اندازہ لگائیے کہ اس کی کتنی اہمیت ہے؟اور کتنی اس میں جامعیت ہے؟البتہ اس آیت کا کچھ مفہوم اورمضمون سیکھ لینا چاہیے،اور سمجھ لینا چاہئے،تب اس کا پیغام اور اس کا خلاصہ اور اس کی جامعیت کاصحیح بتانااور صحیح سمجھاناآسان ہوجاتا ہے،جس کا ذہن جتنا زیادہ کھلا ہو اہوتاہے وہ اتناہی اس کو اچھے انداز میں پیش کرسکتا ہے،جس سے سننے والے پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔قبیلۂ اکثم کے اسلام لانے کا واقعہ : حدیثوں میں ہے کہ بعض قبیلے والوں نےاسی آیت کو سن کر اسلام قبول کیا تھا،حضرت اکثم بن صیفی ایک صحابی ہیں، جو قبیلے کے سردار تھے، جب حضورکے بارے میں انہیں اطلاع ملی تو انہوں نے ارادہ کیا کہ جاکر حضور سے ملاقات کرآئیں،تاکہ پتہ چلے کہ کیسے آدمی ہیں ؟کیا کہتے ہیں؟ آپنےاسی وقت نبوت کا اعلان کیا تھا، ان کے قبیلے والوں نے کہا کہ آپ قبیلہ کے سردار ہیں آپ کے ساتھ کہیں بیہودگی نہ ہوجائے،اورپھر پورے قبیلے والوں کی عزت کا مسئلہ نہ ہوجائے، اور پتہ نہیں آپ کے ساتھ کیا برتاؤ ہو، اس لئے آپ نہ جائیں بلکہ اپنے نمائندے کے طور پر کسی کو بھیج دیں،چنانچہ انہوں نے دو انتہائی سمجھدار آدمیوں کا انتخاب کیا، اور حضورکی خدمت میں بھیجا،اورانہیں یہ نصیحت بھی کی کہ جاکر محمد() سے دو سوال کریں، (۱)’’مَنْ اَنْتَ‘‘؟آپ کون ہیں؟(۲)اوردوسرا ’’مَا اَنْتَ‘‘؟کہ آپ کہتے کیا ہیں؟ آپ کی دعوت کیا ہے؟ وہ دو نمائندے حضورکی خدمت میں آئے اور پوچھا ’’مَنْ اَنْتَ‘‘ تو آپنے فرمایا:میں محمد بن عبداللہ ہوں، اس کے بعد انہوں نےپوچھا: ’’مَا اَنْتَ‘‘؟