تذکیرات جمعہ |
|
یہی کیفیت اور یہی دھیان رہے،چاہے آپ گھر میں ہوں یا مسجد میں ہوں،چاہے آپ کو کوئی دیکھے یا نہ دیکھے،بس اللہ کا دھیان اور استحضار ہونا چاہیئے۔احسان کے لئے دھیان ضروری ہے : اگر یہ دھیان اور استحضار نہ ہوتو پھر احسان بھی حاصل نہ ہوگا،اور حدیث جبرئیل میں بھی اس کی تعلیم ہے، اس کے علاوہ ایک حدیث میں نبی نے ارشاد فرمایا: ’’مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّاُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوْءَ ثُمَّ يَقُوْمُ فَيُصَلِّيْ رَكْعَتَيْنِ مُقْبِلًا عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهٖ وَوَجْهِهٖ اِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ‘‘(مسند احمد:۱۷۴۳۱) ’’جو مسلمان اچھی طرح وضو کرتا ہے،پھر کھڑا ہوکر دو رکعت نماز اپنے دل سے متوجہ ہوکر اداکرتا ہے تواس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے‘‘ ایک اور حدیث میں ہے: ’’مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهٗ فِيْهِمَا بِشَيْءٍ مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَسْأَلَ اللّٰهَ شَيْئًا اِلاَّ أَعْطَاهُ اِيَّاهُ‘‘ (مصنف ابنِ ابی شیبہ:کتاب الصلاۃ:۷۷۱۳) جو آدمی دو رکعت نماز پڑھے،اور اس میں دنیا کی کسی چیز کے بارے میں نہ سوچے،صرف اللہ کا دھیان اور استحضار رہے ،اس کے بعد اللہ سے جو وہ مانگے وہ عطاکیاجائے گا۔ اس سے پتہ چلاکہ دھیان اصل ہے،غفلت سے یا دنیوی امور میں الجھ کر عبادت کرنے کا نام احسان نہیں ہے،بلکہ سوچ سمجھ کر اور دل سےحاضر ہوکر اوردل سے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اللہ کی عظمت اور جلال کے مشاہدہ کے ساتھ عمل کرنے کا نام احسان ہے، اور یہی اخلاص کامل کادرجہ ہے۔احسان میں اخلاص بھی داخل ہے : حضرت تھانویکے ملفوظات میں لکھا ہے کہ احسان ظاہر اور باطن یعنی ایمان اور اسلام کی روح ہے، صفتِ احسان کا اصل تعلق عمل کے باطن یعنی اس کی روح یعنی اخلاص سے