تذکیرات جمعہ |
|
ٓدمی میں فساد پیدا ہو،جو باطل اعتقاد پیدا کرے، مخرّب اخلاق ہو،اور جس سے افرادیا مجموعہ کو نقصان یا تکلیف پہنچے،جیسے قتل،چوری،تہمت، غصب، زنا،جوا،شراب پینا،پس فحش کے مفہوم میں ہروہ فعل داخل ہے جس سےضروری یامناسب امور میں خلل ہو۔ (التنویر والتحریر:۱۴؍۲۵۷) ہمارے پاس کچھ چیزیں ایسی ہیں جو شریعت کی نظر میں تو بری ہیں لیکن دنیا والوں کی نظر میں بری نہیں ہیں،اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو شریعت کی نظر میں بھی بری ہیں اور دنیا والوں کی نظر میں بھی بری ہیں،فحش کے مفہوم میں یہ سب داخل ہیں،گویا اللہ پاک نے ان چیزوں کے کرنے سے روکا ہے جو شریعت میں بھی بری ہیں اور دنیا والوں کی نظر میں بھی بری ہیں،جیسے کسی کوگالی دینا،نہ شریعت میں اس کی اجازت ہے اور نہ لوگ اس کو پسندکرتے ہیں،بے حیائی ،ننگاپن،زنا، کسی کے یہاں بھی پسندیدہ نہیں،لوگوں نے اس کو فیشن بنالیا ہے لیکن اس کی کسی مذہب میں اجازت نہیں،جس کسی میں ذراسی انسانیت باقی ہوگی تو وہ ان کو ناپسندہی کرے گا، انسانیت جب مسخ ہوجاتی ہے تو فواحش پسندیدہ ہوجاتے ہیں، فطرت میں چینجس (Changes)آنے لگتے ہیں ، جھوٹ بولنا سب کے نزدیک بری بات ہے کسی کے نزدیک اچھا نہیں ہے، دھوکہ، غیبت، تہمت اوربہتان یہ چیزیں تمام مذاہب میں بری شمار ہوتی ہیں،یہ سب فواحش میں داخل ہیں،ان سب چیزوں سے اللہ پاک نے روکا ہے۔حلت وحرمت کا اختیار کسی کو نہیں : اور ان چیزوں سے روکنے کا اور ان کو حرام قرار دینے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے،کسی اور کو نہیں،بلکہ کسی بھی چیزکو حرام اور حلال قرار دینےکا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے۔ کسی کو اللہ پاک نے اس کا اختیار نہیں دیا ہے،اور جو چیزیں بندوں نے اپنے طور پرحرام کر رکھی تھیں اللہ پاک نے اس پر بھی تنبیہ کی اور بتایاکہ اس کا اختیار صرف ہمیں حاصل ہے،تم جو چاہے نہیں کرسکتے، کفارِمکہ نےاحرام کی حالت میں اپنے اوپر وَدَکْ یعنی چربی کو حرام کرلیا تھا،اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ بکری کے گوشت،دودھ وغیرہ کو بھی حرام کر رکھاتھا،اور پھربیت اللہ کا طواف بھی بالکل برہنہ ہوکر کرتے تھے،اللہ پاک نے یہ آیت نازل کی۔(تفسیر طبری:۱۲؍۳۹۵)