تذکیرات جمعہ |
|
جس میں کچھ بدبو ہوتی ہے، اوربدبو کی چیزوں سے رسول اللہبہت پرہیز فرماتے تھے ، چنانچہ آپ تشریف لائے اورازواج مطہرات نے کہاکہ شاید آپ نے مغافیر نوش فرمایا ہے، آپ نے فرمایا کہ نہیں،ازواج مطہرات نے کہا کہ ہم کو اس طرح کی بو محسوس ہورہی ہے،شاید مکھی مغافیرکے درخت پر بیٹھی ہو اور اس کا رس چوسا ہو ،اسی وجہ سے اس کی بدبو محسوس ہورہی ہے،آپ نے قسم کھائی کہ ا ٓئندہ پھر میں شہد نہ پیؤں گا ،تواللہ پاک نے یہ آیت نازل کی۔ (صحیح بخاری:کتاب الطلاق:۵۲۶۷)’’اے نبی!جس چیز کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے آپ قسم کھا کر اسکواپنے اوپر کیوں حرام فرماتے ہیں‘‘اس سے پتہ چلاکہ اسلام میں کسی نبی کوبھی یہ اختیارنہیں ہے کہ وہ جس چیز کو چاہیں حلال کرلیں،اور جس چیز کوچاہیں حرام کرلیں،اس کا اختیار صرف اللہ کو ہے،حلال قرار دینے والی ذات بھی اللہ کی ہے،اور حرام قرار دینےوالی ذات بھی اللہ کی ہے،بندوں میں کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے۔مولوی حرام کرتے نہیں حرام بتاتے ہیں : بہت سے لوگ مولویوں پر الزام دھرتے ہیں کہ مولوی ہر چیز کو حرام قرار دیتے ہیں،ہر چیز سے روکتے ہیں،یہ بات ذہن میں رکھیں کہ مولوی کسی چیز کو اپنی ذات سے حلال اور حرام نہیں قرار دیتے،بلکہ مولوی حلال اور حرام ہونا بتلاتے ہیں،اللہ پاک نے انہیں بھی اس کا اختیار نہیں دیا،جب نبی کو تک اس کا اختیار نہیں ہے تو علماء کو کیسے اختیارہوسکتا ہے؟ اہل حق علماء کسی چیز کو اپنی طرف سے اپنی غرض کی بنیاد پرحلال اور حرام قرار نہیں دیتے بلکہ اس کا حلال اور حرام ہونا بتلاتے ہیں۔ حلال اور حرام کا اختیار صرف اللہ کوہے ،کسی اور کو نہیں۔ کفارِ مکہ نے چونکہ اپنے اوپر چند چیزوں کو حالتِ احرام میں حرام کر رکھاتھا،اس لئے اللہ پاک نے ان کو تنبیہ کی کہ ہماری حلال کردہ چیزوں کوحلال جانو،اور اس کو استعمال کرو،اور حرام چیزوں کو حرام جانو اور اس سے بچو،وہ حرام چیزیں کیا ہیں؟ تو اللہ پاک نے فرمایا: ’’قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوْا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘ (الاعراف:۳۳)