تذکیرات جمعہ |
|
اگر کسی کو ان میں سے کوئی عذر ہو تو اس پر جمعہ فرض نہیں وہ ظہر کی نماز ادا کرے گا۔ ’’وَشَرْطٌ لِافْتِرَاضِهَاتِسْعَةٌ تُخْتَصُّ بِهَا اِقَامَةٌ بِمِصْرٍ…وَصِحَّةٌ…وَحُرِّيَّةٌ… وَذُكُوْرَةٌ… وَبُلُوْغٌ وَعَقْلٌ… وَوُجُوْدُ بَصَرٍ… وَ قُدْرَتُهٗ عَلَى الْمَشْیِ… وَعَدَمُ حَبْسٍ وَ عَدَمُ خَوْفٍ وَعَدَمُ مَطَرٍ‘‘(الدر المختار:۱۵۳ و ۱۵۴)جمعہ کےسنن، آداب اور مستحبات : جمعہ کے ارکان اور شرائط کے علاوہ کچھ سنن ،مستحبات اور آداب ہیں، علامہ ابنِ قیم نے چند آداب لکھے ہیں: (۱)جمعہ کے دن فجر کی نمازمیں سورۂ الم سجدہ اور سورۂ دھر پڑھی جائے۔ (۲)جمعہ کے دن اور رات میں نبی پر کثرت سے درود بھیجا جائے۔ (۳)مونچھ اور اس کے علاوہ بال اور ناخن کاٹے جائیں۔(معجم طبرانی:۸۴۲) (۴)غسل کیاجائے۔ (۵)مسواک کیاجائے۔ (۶)عمدہ کپڑے پہنے جائیں۔(زاد المعاد لابن قیم:۱؍۴۹) (۷)خوشبو لگائی جائے۔(صحیح بخاری:۸۲۳) (۸)تیل لگایا جائے۔(حوالۂ سابق)یومِ جمعہ مسجد جلد جانے کی فضیلت : (۹)جمعہ کے لئے جلد ہی مسجد روانہ ہوکر مسجد میں ذکر اللہ وغیرہ میں اپنے آپ کو مشغول رکھا جائے۔کیونکہ جو شخص جتنا پہلے مسجد میں حاضر ہوتا ہے اتنا ہی وہ زیادہ ثواب اور اجر کا مستحق ہوتا ہے۔ایک حدیث میں آپ نے ارشاد فرمایا: