تذکیرات جمعہ |
|
اور نماز کے بعد کہتے ہیں:’’رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا ‘‘ ’’اے ہمارے رب ہم نے اپنے نفسوں پربہت ظلم کیا‘‘ ہم یہاں اپنے ظلم کا اقرار کیوں کرتے ہیں؟جب کہ ہم نے نہ لڑائی کی ،نہ جھگڑا کیا،نہ مار پیٹ کی،اگر ہم ظالم نہ ہوتے تو ’’ربنا ظلمنا‘‘کیوں کہتے ہیں؟اور’’اللھم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا‘‘کیوں کہتےہیں؟ ہر نماز میں اسےپڑھتے ہیں، کیوں؟اس لئے کہ ہم معاصی میں ڈوبے ہوئے ہیں،ہم سے ایسی حرکتیں ہوتی رہتی ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کی اور بندوں کی حق تلفی ہوتی رہتی ہے،کہیں خالق کے حقوق ادا نہیں ہوتے ہیں تو کہیں مخلوق کے،کہیں معاشرت تباہ اور برباد ہے تو کہیں معاملات گڑبڑ ہیں،کہیں بیوی بچوں کےساتھ ظلم ہورہا ہے تو کہیں بڑوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے،کہیں ماں باپ کے ساتھ بد سلوکی ہورہی ہے توکہیں بھائی بہنوں کا حق دبایاجارہا ہے،کہیں پڑوسیوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے توکہیں رشتہ داروں کو بھولا جارہا ہے۔ اس لئے ہم اس کوپڑھتے ہیں کہ اے اللہ! ہم سے ظلم ہوتے رہتے ہیں،آپ ہمیں معاف فرمادیجئے۔حضرت آدم کا نسیان بھی ظلم تھا : حضرت آدم سے بھول ہوگئی تھی،اور بھول کر انہوں نے جنت کا پھل کھالیاتھا،اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوکر انہیں دنیا میں بھیج دیا،وہ دعاکرنے لگے: ’’رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ‘‘(الاعراف:23) اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر بڑا ظلم کیا ،اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو یقیناً ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں ہوجائیں گے۔ کیایہاں انہوں نے کسی کو مارا تھا،یاگالی دی تھی،یالڑائی جھگڑا کیا تھا،نہیں،بس حکمِ خداوندی کو بھول گئے تھے،یہی ان کی خطا تھی،یہی ان کا ظلم تھا،تو ظلم کہتے ہیں حقوق کی عدم ِرعایت کو،یا اس میں کمی اور کوتاہی کو۔چاہے وہ خالق کے ہوں یا مخلوق کے۔اس لئے اللہ کی اطاعت نہ کرنا بھی ظلم ہے،ان کی بندگی نہ کرنا بھی ظلم ہے۔