تذکیرات جمعہ |
|
اوراس کے علاوہ سورۃ الاعلی اور سورۃ الغاشیہ بھی پڑھا کرتے تھے۔(تفسیر قرطبی:۱۸؍۸۶)یومِ جمعہ کی وجہ تسمیہ : اس سورت میں اللہ پاک نے یومِ جمعہ سے متعلق چند احکام بیان فرمائے ہیں،پہلی بات یہ ہے اس دن کو یوم جمعہ کیوں کہاجاتا ہے؟علماء نے لکھا ہے کہ اس کو یوم جمعہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ جمعہ کے معنیٰ ہیں،جمع ہونا،اکٹھا ہونا،چونکہ اس دن مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور اکٹھے ہوتے ہیں اس لئے اس کو جمعہ کہاجاتا ہے،اہل عرب یوم جمعہ کو پہلےیوم العروبہ کہتے تھے،عروبہ کے معنیٰ رحمت کےیا بڑے دن کے آتے ہیں،بعد میں کعب ابن لوی نے اس دن کا نام جمعہ رکھا۔ یہ آپکے اجداد میں سے ہیں،ان کے درمیان اور آپکی بعثت کے درمیان ۵۶۰ سال کا وقفہ ہے،ان کے جمعہ نام رکھنے کی وجہ یہ بنی کہ اس دن قریش ان کے پاس جمع ہوتے تھے،وہ ان کو خطبہ دیتے تھے،اور وعظ و نصیحت کرتے تھے،اور آپ کی بعثت کی خبر دیتے تھے،اور آپ پر ایمان لانے اور آپ کی اتباع کی تعلیم دیتے تھے،اس لئے اس دن کا نام انہوں نے جمعہ رکھاتھا۔مفسرین نے اس کے علاوہ اور بھی وجوہات بیان کی ہیں کہ اس کو جمعہ اس وجہ سے کہاجاتاہے کہ اس دن حضرت آدمکی مٹی جمع کی گئی تھی،یا اس وجہ سے کہ حضرت آدم اور حضرت حواکو اس دن زمین میں جمع کیاگیا تھا۔(روح المعانی:۲۱؍۵و۷ وتفسیر مظھری:۹؍۲۷۸)جمعہ کی ابتداءکب اور کیسے ہوئی؟ اب سوال یہ ہے کہ ہم جس طریقے پر باضابطہ جمعہ ادا کرتےہیں، اس کی ابتداء کب ہوئی اورکس نے کی؟مفسرین نے لکھا ہے کہ نبیکے مدینہ آنے سے پہلے انصار نے ایک مرتبہ مشورہ کیا اور آپس میں کہنے لگے کہ یہودیوں کے ہاں عبادت کے لئےہفتہ کا دن متعین ہے،جس میں وہ جمع ہوتے ہیں،نصاریٰ کے ہاں عبادت کاایک دن اتوارمتعین ہے جس میں وہ جمع ہوتے