تذکیرات جمعہ |
|
اورمعجم طبرانی میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہاس مقولہ کو سنتے تھے اور انکار نہ فرماتے تھے۔(فتح الباری:ج۷ ،ص۱۴)تمام زمین والوں کا ایمان ابو بکر کے ایمان کے سامنے ہیچ ہے : ’’لَوْ وُزِنَ اِيْمَانُ اَبِيْ بَكْرٍ بِاِيْمَانِ اَهْلِ الْاَرْضِ لَرَجَّحَ بِهِمْ‘‘(شعب الایمان:۶۳) حضرت عمر بن خطابنے کہا کہ اگر تمام اہل زمین کے ایمان کا ابو بکر صدیق کے ایمان کے ساتھ وزن کیا جائے تو ابو بکر کا پلڑا جھک جائے گا اوروہ سب سے وزنی ہوگا۔ یہ چند فضائل حضرت ابو بکرصدیق کے ہیں،اس کے بعد چند فضائل حضرت عمرفاروق کے پیش ہیں۔فضائلِ حضرت عمر فاروق :شیطان حضرت عمر کو دیکھتا تو راستہ بدل دیتا : حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ نبینے ارشاد فرمایا: يَا ابْنَ خَطَّابٍ وَالَّذِىْ نَفْسِىْ بِيَدِهٖ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا قَطُّ اِلَّاسَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ (صحیح بخاری:فضائل الصحابۃ،۳۶۸۳)۔وفی الترمذی اِنَّ الشَّیْطَان لَیُخَافُ مِنْکَ یَا عُمَرُ(سنن ترمذی:کتاب المناقب،۴۰۵۴) اے ابن خطاب!قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ شیطان جب تم کو کسی راستے میں چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستے پرچلنے لگتا ہے۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے ،آپ نے فرمایاکہ اے عمر!بیشک شیطان تم سے ڈرتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عمرکی کسی بات میں شیطان کا دخل نہیں ہوسکتا، یہ صفت اگر عصمت نہیں توظل عصمت ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے۔ اس فرمانِ نبی کو دیکھئے،کہ حضرت عمر کےبارے کیا ارشاد فرمارہے ہیں؟اور آج کے بعض جاہل اور زندیق نعوذ باللہ حضرت عمر کوبدعتی اوران کی سنتوں کو بدعت کہنے لگتےہیں!