تذکیرات جمعہ |
|
(5)ایک ہی مسجد میں دو مرتبہ نماز جمعہ ادا کرنا۔ (6)نمازِ جمعہ کا قبل از وقت اداکرنا۔(7)وقت سے پہلے جمعہ کا خطبہ دینا۔ (8)نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد نمازِ عصر اداکرنا۔ ہمارے ہندوستان، پاکستان سے جو بھائی آئے ہوئے ہوتےہیں اولاً تو وہ مغربی لوگوں سے مرعوب ہوتے ہیں،اور دینی مسائل میں علماء کے بجائے جاہلوں پر ان کا اعتماد زیادہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان لوگوں کے گمراہ عمل کو صحیح سمجھتے ہوئے ان کی اندھی تقلید کرتے ہیں،اس پسِ منظر میں چند باتیں ذہن میں رکھیں۔تحیۃ المسجد کی شرعی حیثیت : پہلی بات یہ ہے کہ خطبہ کے دوران تحیۃ المسجد ادا کرناکیساہے،اس کو سمجھنے سے قبل اس کی شرعی حیثیت کا جاننا بھی ضروری ہے،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہو تے ہی بیٹھنے سےقبل دورکعت تحیۃ المسجد ادا کرناسنت ہے،اس کی بڑی فضیلتیں احادیث میں وارد ہوئی ہیں،اور یہ حق تعالیٰ کے عالی دربار کےشاہی آداب میں سے ہے،اس لئے دورکعت ادباً اس کی بارگاہ میں پہلے ادا کرنا چاہئے۔کیا تحیۃ المسجد بھول کر بیٹھنے سے ساقط ہو جاتی ہے؟ اگر کوئی مسجد میں داخل ہونے کے بعد دورکعت ادا کئے بغیر بیٹھ جائے تو اب اس کا وقت گزرچکا،کیونکہ اس کا وقت یہی ہے کہ بیٹھنے سے قبل اسےپڑھا جائے، بغیر پڑھے اگر کوئی بیٹھ جائے تو وہ ساقط ہوجائے گی،اور اس کا حق ختم ہوجائے گا۔(تبیین الحقائق:۲؍۱۹)لیکن بعض علماء نے لکھا ہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ بیٹھنے سے اس کا حق ختم نہ ہوگا بلکہ اٹھ کر اس کو اداکرنا چاہیے،ہاں بیٹھنے سے پہلے ہی اسے اداکرنا افضل تھا،لیکن جب وہ ادا نہ کرسکے تو اٹھ کر ادا کرلے۔ ’’وَلَا تَفُوْتُ تَحِيَّةُ الْمَسْجِدِ بِالْجُلُوْسِ بَلِ الْاَفْضَلُ اَنْ يُّصَلِّيْهَا بَعْدَ اَنْ يَّجْلِسَ‘‘(فقہ العبادات:ا؍۱۰۴،مراقی الفلاح:۱؍۱۷۴)