ہماری رائے میں خود قادیانیوں کو اس بات پر اصرار نہیں کرنا چاہئے کہ وہ مسلمانوں کی ایک شاخ ہیں۔ کیونکہ وہ خود ایسا نہیں سمجھتے۔ یہی سبب ہے کہ وہ دیانتداری سے عام مسلمانوں کے ساتھ رشتہ داری کو ممنوع گردانتے ہیں۔ ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور ان کے جنازوں میں شریک نہیں ہوتے۔ لہٰذا خود ان کے لئے یہی مناسب ہے کہ یہ ایک قوم کی حیثیت سے پاکستان میں رہیں۔ اقلیت کی یہ رعایت بھی ان کے لئے بس ایک ناگزیر رعایت ہے جو حالات کی مجبوریوں سے دی گئی ہے۔ ورنہ خالص اسلامی طرز عمل تو وہی ہے جو حضرت ابوبکرؓ نے مرتدین کے مقابلہ میں اختیار کیا۔ یہاں کی ریاست چونکہ مشترکہ جدوجہد کے اصول پر منصہ شہود پر آئی ہے۔ اس لئے قانون مجبور ہے کہ انہیں شہریت کے تمام حقوق بخشے اور ان کی حفاظت کرے۔
ہمارے نزدیک ایک تعلیم کی حیثیت سے قادیانیت کا موسم گزرگیا۔ اس کے پاس موجودہ پود کے لئے کوئی پیغام نہیں۔ اس دور کے لئے اس کے دامن میں کوئی شے نہیں۔ تعجب یہ ہے کہ اتنا کھوکھلا مذہب کیونکر رائج ہوگیا۔ بات یہ ہے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد طبیعتوں میں ایک طرح کی مایوسی تھی۔ ایک طرف انگریز اور امریکہ کے پھیلائے ہوئے پادری اسلام پر حملہ کررہے تھے۔ دوسری طرف دیانند اسلام کے خلاف زہر اگل رہا تھا۔ مولانا محمدعلی مونگیریؒ، مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ اور قاضی سلیمانؒ ان کے جواب میں سنجیدہ اور متین علمی لٹریچر کا انبار لگارہے تھے۔ مگر اس میں وہ ادّعاء نہ تھا۔ ہمیشہ مسلمانوں نے جس سے دھوکہ کھایا۔
مرزا قادیانی نے اس نفسیاتی ماحول سے فائدہ اٹھایا اور حامی اسلام کے روپ میں میدان مناظرہ میں کود پڑے اور پھر ادّعاء ولاف زنی کے ایسے ایسے کرشمے دکھائے کہ یہ حضرات اس فن میں ان کا مقابلہ نہ کرسکے۔
انگریز کے دامن فتنہ پر ورنے اس آگ کو ہوادی۔ پھر کیا تھا انگریزوں کا یہ خودکاشتہ پودا دیکھتے دیکھتے شعلہ جوالہ بن گیا۔ اب وہ فضا جو مرزائیت کے لئے سازگار تھی باقی نہیں رہی۔ انگریز کی سرپرستی ختم ہوچکی ہے۔ پادریوں کا زور بھی ٹوٹ گیا ہے۔مباحثہ ومناظرہ کی بساط بھی الٹ چکی ہے اور چونکہ اس کے پاس کوئی پیغام نہیں۔ اس لئے یہ اب صرف چوہدری ظفراﷲ کے انجکشنوں پر زندہ ہے۔ لہٰذا ان سے کوئی بحث یا لڑائی نہیں اور نہ اب اس سے کچھ فائدہ ہی ہے۔ ہم ان کو جھوٹا مانتے ہوئے بھی یہ رعایت ان سے برتنا چاہتے ہیں کہ انہیں اقلیت کی حیثیت سے آئندہ دستور میں جگہ دی جائے۔