نے اپنے لئے جمع کے صیغوں کو اور جمع کے ضمائر کو استعمال کیا ہے۔ لہٰذا ضرور اسلام میں شرک کی گنجائش موجود ہے تو اسے جائز تاویل نہیں کہا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ’’کونوا قردۃً خاسئین‘‘ سے تناسخ پر استدلال کرتا ہے یا بہائیوں کی طرح آیات قیامت کی تاویل کرتا ہے تو اس کے کفر میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ اس لئے قادیانیوں کے مذہبی موقف کو متعین کرنے کے لئے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ قطع نظر اس کے وہ اجراء نبوت تک استدلال کے کن پرپیچ راستوں سے پہنچے ہیں۔ خود ختم نبوت کا عقیدہ ہمارے ہاں کس نوعیت کا ہے۔ اگر نبوت اکمال واتمام کی ان منزلوں تک پہنچ چکی ہے کہ اب کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں رہی۔ اگر آنحضرتﷺ نے دین کے تمام مضمرات کو بیان فرمادیا ہے تو آپؐ کے بعد کسی نئے ڈھونگ کی نہ صرف یہ کہ ضرورت باقی نہیں رہتی ہے۔ بلکہ نئی نبوت کے ماننے سے آنحضرتﷺ کے ساتھ جو دلی لگائو ہے اس میں فرق آتا ہے۔ کیونکہ جب نیا نبی آئے گا تو لامحالہ وہ نئے گروہ کی بنیاد رکھے گا۔ نئی عصبیتوں کو اجاگر کرے گا اور تو جہات ووابستگی کے پرانے مرکزوں سے لوگوں کو ہٹاکر ان کا رخ اپنی طرف موڑے گا۔
لہٰذا قادیانیت کی یہ حیثیت ہرگز نہیں ہوسکتی کہ وہ کوئی فرقہ ہے یا اسلام کی کوئی شاخ ہے۔ بلکہ وہ ایک مذہب قرارپائے گا جس طرح یہودیت کے بعد عیسائیت ہے اور وہ یہودیت کا کوئی فرقہ نہیں۔ عیسائیت کے بعد اسلام ہے اور وہ عیسائیت کی شاخ نہیں۔ بلکہ مستقل دین ہے۔ جس نے منفرد عقائد ومعاشرہ کی بنیاد رکھی۔ ٹھیک اسی طرح قادیانیت اسلام کے بعد ایک مذہب ہے۔
صرف اشتراک عقائد سے بات نہیں بنے گی۔ کیونکہ بنیادی مسائل میں یہودیت عیسائیت سے الگ تعلیمات کا نام نہیں۔اسی طرح عیسائیت اسلام سے مختلف نہیں۔ تاہم یہ الگ الگ مذہب ضرور ہیں۔ اسی طرح قادیانیت بھی اشتراک عقائد کے باوجود ایک الگ مذہب ہے۔
صرف ایک فرق البتہ ان مذاہب میں اور قادیانیت میں ہے اور وہ یہ کہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح، اﷲ کے سچے نبی ہیں اور مرزا قادیانی جھوٹے۔مگر اس میں نفس مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ نبی سچا ہویا جھوٹا۔ بہرآئینہ جب وہ آنحضرتﷺ کے بعد آکر لوگوں سے اپنی نبوت منواتا ہے۔ اپنے گرد لوگوں کو جمع کرتا ہے اور مسلمانوں کے دینی مزاج کو بدلتا ہے تو لامحالہ وہ نئے مذہب کی بنیاد رکھتا ہے۔