خطبات دعوت ۔ مجموعہ بیانات ۔ حضرت مولانا احمد لاٹ صاحب |
|
بھیڑیا ہے انسانی بھیس میں ۔ وہ بھیڑیا ہے انسانی لباس میں ۔انسان تیسرے نمبر کا جانور اور اگر اس سے بھی آگے وہ بڑھتا ہے … ارے میاں! اپنا کام بنے نہ بنے ۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی کرسی ملے نہ ملے اپنا عہدہ بنے نہ بنے ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی لڑکی کو ٹھکا نہ ملے نہ ملے اپنا خارخانہ چلے نہ چلے ۔۔۔۔اپنا زمیندارہ رہے نہ رہے لیکن … کسی کی بننے نہیں دینا… کسی کو چین سے محلہ میں رہنے نہیں دینا… کسی کو امن سے گاؤں میں رہنے نہیں دینا … کسی کو عافیت کے ساتھ اور سکون کے ساتھ ملک میں رہنے نہیں دینا۔ اگر اس بنیاد پہ آجاتا ہے تو وہ سانپ ہے اور بچھو ہے۔ سانپ؟…اس کے اندر کی آواز یہ ہے کہ ہمیں تو ماں نے جنا ہی اس لئے ہے، ہم تو ساپن کے ہیں ہم نہ جانیں راستہ سے کون گذرر ہا ہے … حاجی ہے ۔۔۔۔۔۔ نمازی ہے۔۔۔۔ کہ قاضی ہے اچھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ برا ہے ۔۔۔۔ جوان ہے کہ بوڑھا ہے ۔۔۔ مرد ہے۔۔۔۔۔۔ کہ عورت ہے ہم نے تو ماں کے پیٹ سے جنم ہی اس لئے لیا ہے کہ کسی کو راستہ سے امن سے گذرنے نہیں دینا۔ اور یہ طے ہے کہ جب سانپ کسی کو ڈستا ہے تو اس سے اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور جس کے وہ کاٹتا ہے وہ تلملا اٹھتا ہے۔