خطبات دعوت ۔ مجموعہ بیانات ۔ حضرت مولانا احمد لاٹ صاحب |
|
جو کرتا ہے وہ اپنے ہی لئے کرتا ہے…، خدا کام کی حقیقت کو ہم پر کھول دے، اس کی ضرورت و اہمیت کو ہم پر کھول دے…، اس کے تقاضوں کو ہم پر کھول دے۔ اور اس کے تقاضوں پر … مقامی ہوں … بیرونی ہوں، …نقد ہوں … ادھار ہوں… ہمیں اپنی جان و مال کو جھونکنے والا بنا دے۔ جہاں تک زندگی کا مسئلہ ہے وہی بات جیسا میں نے عرض کیا تھا کہ جان و مال پر خدا کا دیا ہوا اختیار ہے… او ریہ خدا کا فیصلہ ہے جس راہ کو چھاٹو گے خدا اس کو آسان کردیں گے۔ آج ہم نے … آپ نے … خاندانوں میں …گھرانوں میں …عورتوں نے … مردوں نے … بچوں نے … چھوٹوں نے … عوام نے … خواص نے … پڑھے لکھوں نے… ان پڑھوں نے۔ جس نے جس نے اپنی جان و مال پر خدا کے دئے ہوئے اختیار کو غلط استعمال کیا ہے… سچے دل سے توبہ کرکے اپنے آپ کویوں کہہ دے … گنو وہاں سے جہاں سے بھولے ہو۔ ایک آدمی آم کی بہت بڑی ڈھیری ہے وہ گن رہا ہے… گنتے گنتے… راستہ میں کوئی بات ہوگئی… کسی نے آکر کچھ کہہ دیا وہ بھول گیا … اب کیا کرے گا؟ شروع سے گنے گا، نہیں گنے گا؟امت کا پہلے دن کا سبق امت چلتے چلتے اپنا راستہ بھول چکی… اس کے پہلے دن کا پہلا سبق۔ اَیُّھَاالنَّاسُ قُوْلُوالَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْ! ہر ایک کو ایمان کی دعوت پر ڈالا تھا ۔۔۔۔۔ ۔ہر ایک اپنا ایمان بنارہاتھا