خطبات دعوت ۔ مجموعہ بیانات ۔ حضرت مولانا احمد لاٹ صاحب |
|
کھانے میں بھوک مٹانے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ دواؤں میں شفا کی چھری میں کاٹنے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمندر میں ڈبونے گی یہ تاثیر بھی وہ مخلوق اپنی ذات سے ظاہر نہیں کرسکتی جب تک اللہ نہ چاہے، اور اللہ کیسے قادر کہ جتنی تاثیر جس مخلوق میں ہے رکھنے والے بھی اللہ…! ظاہر کرنے والے بھی اللہ…! اور جب چاہے اس کی تاثیر بدل دے اس کی قدرت بھی اللہ کو…! کہ دنیا کہتی ہے آگ جلاتی ہے…وہ چاہے تو آگ کو باغ بنادے… بنایا…بنایا ! نہیں بنایا؟… اللہ نے …؟ اور باغ کو آگ بنادے! اللہ بڑی قدرت والے ہیں وہ باغ کو آگ بنا سکتے ہیں اور آگ کو باغ بناسکتے ہیں۔قرآن میں باغ والوں کا قصہ : سورۂ نور میں ہے نا تین بھائیوں کا قصہ ۔ تین بھائی تھے اور ان کا باپ تھا، اچھا نیک اور دیندار تھا… اس کا بڑا زمیندارہ تھا… اس نے یہ کیا تھا کہ اپنے ہر سال کی آمدنی میں… ہرسال ایک حصہ ایسا رکھا تھا۔ کہ اتنا بیواؤں کے یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنا یتیموں کے یہاں اتنا بھوکوں کے یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنا حاجتمندوں ،ضرورت مندوں کے یہاں اپنی آمدنی سے ہر سال اتنا پہنچایا کرتا تھا… اور اپنی ضرورتوں میں بھی لگایا کرتا تھا …سالوں معمول چلتا رہا… اب آئے صاحبزادے، بلند اقبال اور ان کا کیا دعویـ؟ جیسے آج کل کے لونڈے، آج کے جوان! کیا کہتے ہیں باپ باپ کیا سمجھے؟ باپ سمجھتا نہیں… ہر بیٹا باپ بننے کی فکر میں ہے۔ کہ بھئی باپ تو تیرا میں ہی ہوں… تو تو بیٹا ہی بیٹا رہے گا، … ان تین بھائیوں نے آپس میں مشورہ کیا کہاـ؟ کہ بھئی! باپ تو یونہی تھے… ارے بھلا