خطبات دعوت ۔ مجموعہ بیانات ۔ حضرت مولانا احمد لاٹ صاحب |
|
جن کی زندگی کا مقصد ایمان بنانا، ایمان بچانا اور ایمان کی دعوت کو لے کر عالم کے چار کونوں میں پھرنا …… جس امت کی زندگی کا مقصد یہ بتایا تھا …… جب امت اپنے کرنے کے کاموں کو چھوڑے گی تو نہ کرنے کے کاموں میں پھنسیگی۔ شور مچارہے ہیں کہ معاشرہ بہت گندا ہوتا جارہا ہے … معاملات بہت الجھ رہے ہیں، گھروں میں لڑکے لڑکیاں بہت بے قابو ہو رہے ہیں، … جوانوں پر کوئی لگام ہے نہ کنواریوں پر کوئی لگام، یہ شور؟… شور مچانے سے یہ ختم ہوجائے گا۔دعوت کی محنت چھوٹنے سے بڑا بگاڑ آیا ہے یہ سوچو کیوں ہو رہا ہے؟ یہ کیوں ہورہا ہے، لوگ پتہ نہیں کیا کیا کہہ رہے ہیں۔ دنیا چاہے جو کچھ کہتی ہو، میں قسمیہ اس کرسی پر بیٹھ کر کہتا ہوں ’’جب سے امت نے زندگی کے مقصد کو بھلایا ہے اور جب سے امت نے دعوت کے کام کو چھوڑا ہے یہ ساری بیماریاں اس کے نتیجے میں آئی ہے۔ ‘‘ اس لئے کہ ایمان کی دعوت سے ایمان کوپانی پہنچتا تھا، اور ایمان کی طاقت سے ارکان اسلام زندہ تھے اور ایمان کی قوت سے فرائض و احکامات زندہ تھے، اور اس کے نتیجے میں اعمال صالحہ سے زندگیاں سجی ہوئی تھی، نبی کی سنتوں پر جان ے رہے تھے، اور اخلاق کی بلندیوں کو دیکھ کر قوموں کی قومیں رجوع ہو رہی تھیں۔ جس دن سے دعوت کی محنت امت سے چھوٹی ہے، ……اجتماعی طور پر ۔ یاد رکھنا! افراد نے دعوت کی محنت کی ہے، سلف صالحین کی سوانح پڑھ لو، سلف صالحین کی تاریخ اور سیرتیں پڑھ لو انہوں نے دعوت دی ہے اور ان کے ہاتھوں لاکھوں لاکھوں کی تعلیم و تربیت ہوئی ہے۔ لیکن یہ پوری امت ہے حضرت رسول کریم ؐ نے امت بنائی تھی قوم نہیں بنائی تھی،