خطبات دعوت ۔ مجموعہ بیانات ۔ حضرت مولانا احمد لاٹ صاحب |
|
ان کی والدہ اس پر یہ فرماتیں کہ نہیں بیٹے اللہ ضرور دیتا ہے: ’’وَاِذَاسَئَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّی فَانِّی قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ‘‘ اس کا یہ اعلان ہے کہ’’وَاِذَاسَئَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّی‘‘ اے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ سے میرے بندوں میں سے کوئی پوچھے میرے بارے میں تو آپ کہہ دیجئے ’’فانی قَرِیْبٌ‘‘میں بہت قریب ہوں۔ ’’اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ‘‘ جب کوئی پکارنے والا پکارتا ہے تو میں اس کی پکار ضرور سنتا ہوں اور ضرور قبول کرتا ہوں۔ تو قرآنِ کریم کا یہ فیصلہ ہے۔ ان کی والدہ یوں کہتی ہیں۔ یہ اس کا اعلان ہے اور وہ کبھی وعدہ خلافی نہیںکرتا۔ اور مانگو… پھر سمجھاتیں کہ اس کے دینے کے راستے بہت ہیں… کسی کو باپ کے راستے سے… کسی کو ماں کے راستے سے… کسی کو بہن کے راستے سے… کسی کو دکان کے راستے سے… کسی کو نماز کے راستے سے… تو کسی کو تقوے کے راستے سے… کسی کو توکل اور اعتماد علی اللہ کے راستے سے… اس کی دِہش کے راستے بے شمار ہیں… جو جس راستے سے لینا چاہے اس کو اس طرف سے دیتا ہے۔ماں کا تربیت کا نرالا انداز ان کی والدہ محترمہ یہ کیا کرتی تھیں کہ جب وہ مدرسے جاتے تو کوئی چیز بناکر گھر کی الماری میں کسی طاقچے میں رکھ دیتیں… جب وہ آتے اور مانگتے تو ان سے نماز کے لیے کہتی۔ جب وہ نماز پڑھ کر دعا مانگ کر فارغ ہو کر آتے، پھر یہ کہتیں کہ دیکھو اللہ نے تمہارے لئے کہیں رکھوایا ہے۔ وہ تلاش کرتے تو کوئی چیز انہیں مل جاتی بچپن ہی میں ان کا یقین یہ بن چکا تھا کہ میرے ہر مسئلے کا حل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ میری ماں… میری ماں ہے… میری پروردگار نہیں۔ میرا باپ… میرا باپ ہے… میرا پالنہار نہیں۔ خالق اور