خطبات دعوت ۔ مجموعہ بیانات ۔ حضرت مولانا احمد لاٹ صاحب |
|
انہوںنے اپنی ساری تدبیریں کیں … رات رات میں اللہ نے کیا کیا… باغ ہی سارا صاف! جل کر خاک !اور یہ جو گئے رات کے اندھیرے میں …کبھی آگے چلے جارہے ہیں… کبھی پیچھے آرہے ہیں… ارے بھئی یہی تو تھا اپنا باغ بھٹک گئے … ’’فَلَمَّا رَاَوْھَا قَالُوْااِنَّا لَضَالُّوْنَ‘‘ ہم تو راستہ ہی بھٹک گئے … پورا باغ چٹیل میدان بن کر رہ گیا تھا کہ پہچان ہی نہ سکے ۔ بیچ والے بھائی نے اپنی بات یاد دلائی کہ میں نے نہیں کہا تھا کہ اس اللہ کو نہ بھولو… کَذٰالِکَ الْعَذَابُ ہماری پکڑ یوں آتی ہے… اللہ بڑی قدرت والے ہیں …اپنے خلیل کیلئے آگ کو ٹھنڈا بنا دیا اور نافرمانوں کے لئے باغ کو آگ بنا دیا۔توبہ وندامت پراچھا نعم البدل پہلے پہل تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے… اس کا قصور ہر ایک دوسرے پر تھوپنے لگا فَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بََعْضٍ یَتَـلَاوَمُوْنَ، لیکن پھر اپنے قصور کا اپنی غلطی کا اپنے گناہ کا سب نے ملکر اعتراف کرلیا قَالُوْایَاوَیْلَنَا اِنَّاکُنَّا طٰغِیْنَ ، کہنے لگے ہائے بربادی! ہم ہی حدوں کو پھلانگنے والے تھے… ہم ہی قصور وار تھے… دنیاکی حرص و لالچ میں آگئے …اور فقیروں اور محتاجوں کا حق مارنا چاہا… اور سب نے مل کر اللہ سے توبہ کی …اور امیدیں وابستہ کیں عَسٰی رَبُّنَا اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْراً مِنْھَا اِنَّا اِلٰی رَبِّنَا رَاغِبُوْنَ، ہم اپنے رب سے امید رکھتے ہیں… کہ وہ اس سے بہتر باغ ہم کو عطا کریں۔ (روایتوں میں ہے کہ جب ان میں ندامت آئی… رجوع اللہ کی طرف ہوا… اور اللہ کی طرف رخ کرکے پچھلی زندگی کو بدلنے کا عزم و ارادہ کرلیا …تو اللہ نے ان کو اس سے بہتر باغ عطا فرمایا۔) تو عرض میں یہ کررہا تھا میرے دوستو عزیزو! بزرگو! حضرت ابراہیم ؑ نے آواز لگائی …