خطبات دعوت ۔ مجموعہ بیانات ۔ حضرت مولانا احمد لاٹ صاحب |
|
عزتوں کے خزانے اللہ کے پاس ہیں ہر چیز کے بے پناہ خزانے ہمارے قبضۂ قدرت میں ہے کہ معاملہ ہم سے کرلو، عزتیں؟…… ہر ایک کوکرسی میں عزت نظر آرہی ہے یہ بھی چاہ رہے ہیں، وہ بھی چاہ رہے ہیں، کرسی ایک اور چاہنے والے سیکڑوں سب لڑ رہے ہیں ، عزت کرسی کے ساتھ نہیں ہے، عزت تو ہمارے خزانے میں ہے ہم جب کسی کو عزت دینے پر آتے ہیں تو گدھے کی سواری کراکے عزت کے مناروں پر پہنچاتے ہیں، اور ہم جو کسی کو ذلیل کرنے پر آتے ہیں تو اعلیٰ قسم کی ہاتھی کی سواری پر بٹھا کر ’’الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل‘‘ (سورۂ الفیل) ایسا ذلیل و خوار کرتے ہیں کہ جب اس کا تذکرہ آتا ہے تو لوگوں کی لعنت کے ووٹ اس کے نام جاتے ہیں۔ کہ سواریوں سے عزت کرسیوں سے عزت عہدوں سے عزت ملک کی وسعت سے عزت مناصب سے عزت کہ عزت کے راز اس میں نہیں ہے… بلکہ عزت کے تمام تر خزانے۔ ’ ’وللّٰہ خزائن السموات والارض، وللّٰہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین‘‘ (پ ۲۸ آیت ۷-۸سورۂ منافقون)